مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40184
٤٠١٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام قال: حدثني منصور بن المعتمر عن ربعي عن حذيفة قال: أدنوا يا معشر مضر، فواللَّه لا تزالون بكل مؤمن تفتنونه وتقتلونه، حتى يضربكم اللَّه وملائكته والمؤمنون، حتى لا تمنعوا بطن تلعة، قالوا: فلم (تديننا) (١) ونحن كذلك؟ قال: إن منكم سيد ولد آدم، وإن منكم سوابق كسوابق الخيل (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا اے مضر کی جماعت قریب ہوجاؤ اللہ کی قسم تم ہر مومن کو قتل کرو گے اور ان کو فتنے میں ڈالو گے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور مومنین تمہیں ماریں گے یہاں تک کہ تم ہر جگہ کثرت سے رہنے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکو گے ان کے اصحاب نے عرض کیا جب ہم اس حالت پر ہوں گے تو کیوں ہم ایسا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ! یقینا تم میں سے ایک سردار ہوگا اور تم میں کچھ آگے نکلنے والے ہوں گے گھوڑوں میں سے آگے نکلنے والوں کی طرح۔
حواشی
(١) في [س]: (فدننا).