حدیث نمبر: 40183
٤٠١٨٣ - حدثنا علي بن مسهر عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل قال: جاء رجل من محارب يقال له: (عمرو بن) (١) (صليع) (٢) إلى حذيفة فقال له: يا أبا عبد اللَّه حدثنا ما رأيت وشهدت؟ فقال حذيفة: (يا عمرو بن (صليع)) (٣) (٤) أرأيت محارب (أمِنْ) (٥) مضر؟ قال: نعم، قال: فإن مضر لا تزال تقتل كل مؤمن وتفتنه أو ⦗٢٩٨⦘ يضربهم اللَّه والملائكة والمؤمنون حتى لا يمنعوا بطن تلعة، أرأيت محارب (أمن) (٦) قيس (عيلان) (٧)؟ قال: نعم، فإذا رأيت (عيلان) (٨) قد (نزلت) (٩) بالشام فخذ حذرك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

ابو الطفیل سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو محارب میں سے ایک صاحب جن کو عمرو بن صلیع کہا جاتا تھا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابو عبداللہ ہم سے وہ بیان کیجیے جو آپ نے دیکھا اور مشاہدہ کیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمرو بن صلیع محارب کے بارے میں مجھے بتلاؤ کیا وہ مضر میں سے ہے اس نے کہا جی ہاں تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلاشبہ مضر مسلسل ہر مومن کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کو فتنے میں ڈالیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے اور مومنین ان کو ماریں گے یہاں تک کہ وہ ہر جگہ کثرت سے ہونے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکیں گے محارب کے بارے میں بتلاؤ کیا وہ قیس عیلان سے ہیں انہوں نے کہا جی ہاں ارشاد فرمایا جب تم قبیلہ عیلان کو دیکھو جب وہ شام میں آگئے ہیں تو اپنا بچاؤ کرنا۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ط، هـ]: (ضليع).
(٣) في [ط، هـ]: (ضليع).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، ب]: (من)، وفي [هـ]: (أم).
(٦) في [أ، ب]: (من)، وفي [هـ]: (أم).
(٧) في [ب، جـ، س]: (غيلان).
(٨) في [ب، جـ، س]: (غيلان).
(٩) في [ع]: (توالت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40183
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الوليد بن جميع صدوق، أخرجه الحاكم ٤/ ٤٦٩، والبزار (٢٧٩٨)، والطيالسي (٤٢٠)، وعبد الرزاق (١٩٨٨٩)، وأحمد (٢٣٣٦٤)، والبخاري في التاريخ ٦/ ٣٤٤، وابن عساكر ٢٦/ ٨٥، ونعيم في الفتن (١١٦٩)، وانظر: ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40183، ترقيم محمد عوامة 38555)