مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٦٧ - حدثنا هوذة بن خليفة حدثنا عوف عن الحسن عن أَسِيْد بن (المنتشر) (١) قال: كنا عند أبي موسى فقال: ألا أحدثكم حديثًا كان رسول اللَّه ﷺ يحدثناه؟ قلنا: بلى، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقوم الساعة حتى يكثر الهرج"، فقلنا: يا رسول اللَّه! وما الهرج؟ قال: "القتل، القتل"، قلنا: أكثر مما نقتل اليوم؟ قال: "ليس بقتلكم الكفار، ولكن يقتل الرجل جاره وأخاه وابن عمه"، قال: فأبلسنا حتى ما يبدي أحد منا عن واضحة، قال: قلنا: ومعنا عقولنا يومئذ؟ قال: " (تنزع) (٢) عقول أكثر (أهل) (٣) ذلك الزمان، (ويخلف) (٤) هنات من الناس يحسب أكثرهم أنهم على شيء، وليسوا على شيء، والذي نفسي بيده لقد خشيت أن يدركني وإياكم الأمور، (ولئن) (٥) أدركتنا ما لي ولكم منها (مخرج) (٦) إلا أن ⦗٢٩٣⦘ (نخرج) (٧) منها كما (دخلناه) (٨) " (٩).حضرت اسید بن متشمس سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ کے پاس تھے انہوں نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہارے سامنے ایسی حدیث نہ بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے بیان کرتے تھے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں راوی نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ہرج کثرت سے ہوجائے گا ہم نے عرض کیا ہرج کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قتل قتل ہم نے عرض کیا اب بھی تو ہم قتل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم کفار کو قتل نہیں کرو گے بلکہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو قتل کرے گا اور اپنے بھائی کو اور اپنے چچا کے بیٹے کو راوی کہتے ہیں ہمارے لیے یہ بات پیچیدہ ہوگئی یہاں تک کہ عرض کیا کیا اس دن ہمیں عقل و شعور ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں اڑا دی جائیں گی اور ان کے بعد کم عقل لوگ ان کے نائب بن جائیں گے جن میں سے اکثر یہ گمان کریں گے کہ وہ کسی امر (دینی) پر ہیں حالانکہ وہ کسی شے پر نہیں ہوں گے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے خوف ہے کہ مجھے اور تمہیں چند امور آن لینگے اور اگر ان امور نے ہمیں پا لیا تو میرے اور تمہارے لیے ان سے نکلنے کا راستہ نہیں ہوگا مگر ایسا ہی کہ جے سل ہم داخل ہوئے تھے (مطلب یہ ہے کہ ہم ان فتنوں میں محفوظ نہ رہیں گے ایسے ہی ہے جیسا کہ ہم اس دن محفوظ تھے کہ جس دن ہم اسلام میں داخل ہوئے تھے) ۔