حدیث نمبر: 40167
٤٠١٦٧ - حدثنا هوذة بن خليفة حدثنا عوف عن الحسن عن أَسِيْد بن (المنتشر) (١) قال: كنا عند أبي موسى فقال: ألا أحدثكم حديثًا كان رسول اللَّه ﷺ يحدثناه؟ قلنا: بلى، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقوم الساعة حتى يكثر الهرج"، فقلنا: يا رسول اللَّه! وما الهرج؟ قال: "القتل، القتل"، قلنا: أكثر مما نقتل اليوم؟ قال: "ليس بقتلكم الكفار، ولكن يقتل الرجل جاره وأخاه وابن عمه"، قال: فأبلسنا حتى ما يبدي أحد منا عن واضحة، قال: قلنا: ومعنا عقولنا يومئذ؟ قال: " (تنزع) (٢) عقول أكثر (أهل) (٣) ذلك الزمان، (ويخلف) (٤) هنات من الناس يحسب أكثرهم أنهم على شيء، وليسوا على شيء، والذي نفسي بيده لقد خشيت أن يدركني وإياكم الأمور، (ولئن) (٥) أدركتنا ما لي ولكم منها (مخرج) (٦) إلا أن ⦗٢٩٣⦘ (نخرج) (٧) منها كما (دخلناه) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسید بن متشمس سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ کے پاس تھے انہوں نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہارے سامنے ایسی حدیث نہ بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے بیان کرتے تھے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں راوی نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ہرج کثرت سے ہوجائے گا ہم نے عرض کیا ہرج کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قتل قتل ہم نے عرض کیا اب بھی تو ہم قتل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم کفار کو قتل نہیں کرو گے بلکہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو قتل کرے گا اور اپنے بھائی کو اور اپنے چچا کے بیٹے کو راوی کہتے ہیں ہمارے لیے یہ بات پیچیدہ ہوگئی یہاں تک کہ عرض کیا کیا اس دن ہمیں عقل و شعور ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں اڑا دی جائیں گی اور ان کے بعد کم عقل لوگ ان کے نائب بن جائیں گے جن میں سے اکثر یہ گمان کریں گے کہ وہ کسی امر (دینی) پر ہیں حالانکہ وہ کسی شے پر نہیں ہوں گے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے خوف ہے کہ مجھے اور تمہیں چند امور آن لینگے اور اگر ان امور نے ہمیں پا لیا تو میرے اور تمہارے لیے ان سے نکلنے کا راستہ نہیں ہوگا مگر ایسا ہی کہ جے سل ہم داخل ہوئے تھے (مطلب یہ ہے کہ ہم ان فتنوں میں محفوظ نہ رہیں گے ایسے ہی ہے جیسا کہ ہم اس دن محفوظ تھے کہ جس دن ہم اسلام میں داخل ہوئے تھے) ۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (المستمر)، وفي [هـ]: (المتشمس)، قال المزي في تهذيب الكمال ٣/ ٢٤٥: "روى له ابن ماجه ووقع عنده أسيد بن المنتشر وهو وهم)، وذكر أن صوابه: (المتشمس).
(٢) في [ب]: (فنزع).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [جـ، ع]: (يحلف).
(٥) في [ب، ع]: (ولبن).
(٦) في [س]: (فخرج).
(٧) في [ب، س]: (يخرج).
(٨) في [جـ، ع]: (دخلنا)، وفي [أ، ب]: (دخلن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40167
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أسيد ثقة، أخرجه أحمد (١٩٦٣٦)، وابن ماجه (٣٩٥٩)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٢، وابن المبارك في مسنده (٢٦٠)، وأبو الشيخ في طبقات المحدثين باصبهان (١٧)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٢٦، وأبو يعلى (٧٢٤٧)، وأصله عند البخاري (٧٠٦٤)، ومسلم (٢٦٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40167، ترقيم محمد عوامة 38539)