مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٦٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن هشام بن يوسف عن (عوف) (١) بن مالك قال: استأذنت على النبي ﷺ فقال: "ادخل" قلت: فأدخل كلي أو بعضي؟ قال: "أدخل كلك"، فدخلت عليه وهو يتوضأ وضوءا (مكيثا) (٢)، فقال: "يا عوف بن مالك! ست قبل الساعة: موت نبيكم ﷺ (خذ إحدى) (٣) -فكأنما انتزع قلبي من مكانه- وفتح بيت المقدس، وموت يأخذكم تقعصون به كما تقعص المغنم، وأن يكثر المال حتى (يعطى) (٤) الرجل مائة دينار فيسخطها، وفتح مدينة الكفر، وهدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر، (فيأتونكم) (٥) تحت ثمانين غاية، تحت كل غاية اثنا عشر ألفا فيكونون (أولى) (٦) بالغدر منكم" (٧).حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے داخل ہونے کی اجازت لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا داخل ہوجاؤ میں نے عرض کیا میں سارا داخل ہوجاؤں یا کچھ (یہ مزاقاً کہا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سارا داخل ہوجا میں آپ کے پاس گیا آپ آہستہ سے وضو کر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عوف بن مالک چھ باتیں قیامت سے پہلے ہوں گی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت یہ ایک لے لے (راوی نے فرمایا) اس بات سے گویا انہوں نے میرادل کھینچ لیا اور (دوسری) بیت المقدس کی فتح حاصل ہوگی اور (تیسری) موت ہوگی تو تمہیں آ ن لے گی تم اس سے جلدی مرجاؤ گے جیسے بکریاں قعاص کی بیماری سے جلدی مرجاتی ہیں اور (چوتھا) مال کثرت سے ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی کو سودینار دیے جائیں گے وہ انہیں ناپسند کرے گا کفار کا شہر فتح ہوگا اور صلح ہوگی تمہارے اور رومیوں کے درمیان وہ تمہا رے پاس اسی جھنڈیوں کے نیچے آئیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے و ہ تم سے عذر کرنے میں آگے ہوں گے۔