حدیث نمبر: 40111
٤٠١١١ - حدثنا ابن عيينة عن منصور بن صفية عن أمه قالت: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب، فقالوا له: هذه أسماء، فأتاها وذكرها ووعظها وقال: إن الجثة ليست بشيء، وإن الأرواح عند اللَّه فاصبري واحتسبي، فقالت: وما يمنعني من الصبر وقد أُهدي رأس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل؟ (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صفیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر کو سولی دے دی گئی تھی انہوں نے کہا یہ اسمائ ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور ان سے اصلاح کی بات کی اور فرمایا جسم کوئی چیز نہیں اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں پس صبر کرو اور ثواب کی نیت کرو حضرت اسماء نے فرمایا اور مجھے صبر سے کونسی چیز روکے گی حالانکہ حضرت یحییٰ بن زکریا کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ عورتوں میں سے ایک زانیہ کو دیا گیا۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40111
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الفاكهي في أخبار مكة ٢/ ٣٧٦ (١٦٧٧)، وابن عساكر ٦٩/ ٢٦، وابن حزم في المحلى ١/ ٢٢، والفصل ٤/ ٥٧، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ١٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40111، ترقيم محمد عوامة 38483)