مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40079
٤٠٠٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن الحسن عن ضبة بن محصن عن أم سلمة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ستكون (أمراء) (١) (تعرفون ⦗٢٥٥⦘ وتنكرون) (٢)، فمن أنكر فقد برئ، ومن كره فقد سلم، ولكن من رضي (وتابع) (٣) "، قالوا: يا رسول اللَّه أفلا نقاتلهم؟ قال: "لا، ما صلوا" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب امراء ہوں گے جن کو تم بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے جس آدمی نے انکار کیا وہ بری ہوگیا جس آدمی نے ناپسند کیا وہ بھی محفوظ ہوگیا۔ لیکن وہ آدمی جو راضی ہوا اور پیروی کی صحابہ l نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (أمرًا).
(٢) في [ع]: (يعرفون وينكرون).
(٣) في [ع]: (وبايع).