حدیث نمبر: 40015
٤٠٠١٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن أبيه قال: كانت آخذا بلجام دابة عبد اللَّه بن عمرو فقال: كيف أنتم إذا هدمتم (١) البيت؟ فلم تدعوا حجرا على حجر، قالوا: ونحن على الإسلام؟ قال: (وأنتم) (٢) على الإسلام، قال: ثم ماذا؟ قال: ثم يبنى أحسن ما كان، فإذا رأيت مكة قد بعجت كظائم ورأيت البناء يعلو رؤوس الجبال فاعلم أن الأمر قد أظلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء سے روایت ہے فرمایا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھا انہوں نے ارشاد فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا جب تم اس گھر (یعنی بیت اللہ) کو گرا دو گے پس تم کسی پتھر کو پتھر پر نہ چھوڑو گے ان کے ساتھیوں نے عرض کیا اور کہا ہم اسلام پر ہوں گے، انہوں نے ارشاد فرمایا تم اسلام پر ہو گے میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا انہوں نے ارشاد فرمایا پھر پہلے سے اچھا بنایا جائے گا جب تو دیکھے مکہ میں کنوئے کھودے جائیں اور تو دیکھے عمارتیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے بلند ہوجائیں تو جان لینا امر قریب آگیا۔

حواشی
(١) في [ع]: زيادة (هو).
(٢) في [ع]: (ونحن).
(٣) مجهول؛ لجهالة عطاء العامري، أخرجه الفاكهي (١٧٨٧)، وأبو عبيد في غريب الحديث ١/ ٢٦٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40015
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40015، ترقيم محمد عوامة 38387)