حدیث نمبر: 39979
٣٩٩٧٩ - حدثنا أبو أسامة (١) عن (مجالد) (٢) عن أبي السفر عن رجل من بني عبس قال: قال لنا حذيفة: كيف أنتم إذا (ضيع) (٣) اللَّه أمر أمة محمد ﷺ، فقال رجل: ما تزال تأتينا (بمنكرة) (٤)، (يضيع) (٥) اللَّه أمر أمة محمد؟ قال: أرأيتم إذا وليها من لا يزن عند اللَّه جناح بعوضة: أفترون أمر أمة محمد ضاع يومئذ (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو السفر بنی عبس کے ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ہم سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب اللہ تعالیٰ امت محمد یہ کے معاملے کو ضائع کردیں گے ایک آدمی نے کہا آپ ہم سے ہمیشہ ایسی ہی ناپسندیدہ باتیں بیان کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے امر کو ضائع کردیں گے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی جب ان کا والی ایسا آدمی ہوگا جس کا وزن (قدرو منزلت) اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا تو کیا خیال ہے تمہارا امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دینی امر اس دن ضائع نہیں ہوجائے گا۔

حواشی
(١) في [ع]: زيادة (زائدة عن أبي سفيان).
(٢) في [س]: (مجاهد).
(٣) في [أ، ب]: (صنع).
(٤) في [أ، هـ]: (بنكرة).
(٥) في [أ، ب]: (يصلح).
(٦) مجهول؛ لإبهام الرجل، أخرجه في تاريخ واسط (٢٢٨)، وفي جزء الأصبهاني (٤٨)، وبنحوه البخاري في التاريخ الكبير ٧/ ١٤٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39979
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39979، ترقيم محمد عوامة 38351)