حدیث نمبر: 39950
٣٩٩٥٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد قال: لما كان يوم (الجرعة) (١) قيل لحذيفة: ألا تخرج مع الناس؟ قال: ما يخرجني معهم؟ قد علمت أنهم لم يهريقوا بينهم محجما من دم حتى يرجعوا، ولقد ذكر في حديث (الجرعة) (٢) حديث كثير: ما أحب أن لي به ما في بيتكم، إن الفتنة تستشرف من استشرف لها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ جب جرعہ والے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں نکلتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کونسی چیز مجھے ان کے ساتھ نکالے گی حالا ن کہ میں جانتا ہوں کہ انہوں نے آپس میں لوٹنے تک پچھنا لگانے کے برابر خون بھی نہیں بہایا اور جرعہ کے بارے میں بہت ساری باتیں ذکر کی گئی ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ ان کے بدلے میں… مجھے وہ چیزیں ملیں جو تمہارے گھر میں ہیں بلا شبہ فتنہ اس آدمی کی طرف جھانکتا ہے جو فتنے کی طرف سر اٹھا کر دیکھے (یوم الجرعہ سے مراد وہ دن ہے جس دن کوفے والے حضرت سعدب بن العاص کی زیارت کے لیے نکلے اور حضرت عثمان نے انہیں والی مقرر کیا تھا پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کیا)

حواشی
(١) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (الجزعة).
(٢) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (الجزعة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39950
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٦٣٦، وورد بنحوه من حديث جندب عن حذيفة، أخرجه مسلم (٢٨٩٣)، وأحمد ٥/ ٣٩٩ (٢٣٤٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39950، ترقيم محمد عوامة 38322)