مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩٥٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد قال: لما كان يوم (الجرعة) (١) قيل لحذيفة: ألا تخرج مع الناس؟ قال: ما يخرجني معهم؟ قد علمت أنهم لم يهريقوا بينهم محجما من دم حتى يرجعوا، ولقد ذكر في حديث (الجرعة) (٢) حديث كثير: ما أحب أن لي به ما في بيتكم، إن الفتنة تستشرف من استشرف لها (٣).حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ جب جرعہ والے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں نکلتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کونسی چیز مجھے ان کے ساتھ نکالے گی حالا ن کہ میں جانتا ہوں کہ انہوں نے آپس میں لوٹنے تک پچھنا لگانے کے برابر خون بھی نہیں بہایا اور جرعہ کے بارے میں بہت ساری باتیں ذکر کی گئی ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ ان کے بدلے میں… مجھے وہ چیزیں ملیں جو تمہارے گھر میں ہیں بلا شبہ فتنہ اس آدمی کی طرف جھانکتا ہے جو فتنے کی طرف سر اٹھا کر دیکھے (یوم الجرعہ سے مراد وہ دن ہے جس دن کوفے والے حضرت سعدب بن العاص کی زیارت کے لیے نکلے اور حضرت عثمان نے انہیں والی مقرر کیا تھا پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کیا)