٣٩٨٨٧ - حدثنا الفضل بن دكين عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل قال: كان بين (١) حذيفة وبين رجل منهم من أهل العقبة (٢) بعض ما يكون بين الناس، (فقال) (٣): أنشدك باللَّه، كم كان أصحاب العقبة؟ فقال القوم: فأخبره فقد سالك، فقال أبو موسى الأشعري: قد كنا نخبر أنهم أربعة عشر، فقال حذيفة: وإن كنت ⦗١٨٧⦘ فيهم فقد كانوا خمسة عشر، أشهد باللَّه أن إثني عشر منهم (حرب) (٤) (للَّه) (٥) ورسوله في الحياة الدنيا ويوم يقوم الأشهاد، وعذر ثلاثة، قالوا: ما سمعنا منادي رسول اللَّه ﷺ (٦) ولا علمنا ما يريد القوم (٧).حضرت ابوا لطفیل سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور اہل عقبہ میں سے ایک اور آدمی کے درمیان کچھ تکرار سی تھی تو انہوں نے پوچھا۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں (بتاؤ) اصحاب العقبہ کی تعداد کیا تھی ؟ اس پر لوگوں نے بھی کہا۔ تم اس کو بتاؤ کیونکہ اس نے تم سے سوال کیا ہے۔ پس حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا۔ تحقیق ہمیں تو یہ خبر ملی تھی کہ وہ چودہ تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اور اگر آپ ان میں ہوتے تو وہ پندرہ ہوتے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا و آخرت میں اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار تھے۔ اور تین نے معذرت کی تھی اور انہوں نے کہا تھا۔ ہم نے اللہ کے رسول کے منادی کو نہیں سنا اور ہمیں پتا نہیں کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔