حدیث نمبر: 39833
٣٩٨٣٣ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد عن رجل من بني (زريق) (١) قال: لما كان ذلك اليوم خرج أبو بكر وعمر حتى (أتيا) (٢) الأنصار، فقال أبو بكر: يا معشر الأنصار إنا لا ننكر حقكم؛ ولا ينكر حقكم مؤمن، وإنا واللَّه ما أصبنا خيرا إلا ⦗١٤٧⦘ ما شاركتمونا فيه، ولكن لا ترضى العرب ولا تقر إلا على رجل من قريش لأنهم أفصح الناس ألسنة، وأحسن الناس وجوها، وأوسط العرب دارا، وأكثر الناس (شجنة) (٣) في العرب، فهلموا إلى عمر فبايعوه، قال: فقالوا: (لا) (٤)، فقال عمر: لم؟ فقالوا: نخاف الأثرة، قال عمر: أما ما عشت فلا، قال: فبايعوا أبا بكر، فقال أبو بكر لعمر: أنت أقوى مني، فقال عمر: أنت أفضل مني، فقالاها الثانية، فلما كانت الثالثة قال له عمر: إن قوتي (لك) (٥) مع فضلك، قال: فبايعوا أبا بكر (٦).
مولانا محمد اویس سرور

بنو زریق کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ جب یہ دن تھا تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نکلے یہاں تک کہ وہ انصار کے پاس آئے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے گروہ انصار ! یقینا ہم تمہارے حق کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی مؤمن تمہارے حق کا منکر ہوسکتا ہے۔ اور خدا کی قسم ! بلاشبہ ہم نے جو خیر بھی حاصل کی ہے تم اس میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ لیکن قریش کے آدمی کے علاوہ کسی اور آدمی پر اہل عرب راضی ہوں گے اور نہ قرار پکڑیں گے۔ کیونکہ قریش کے لوگ سب سے زیادہ فصیح اللسان ہیں اور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت چہرے والے ہں ۔ اور اہل عرب میں سے سب سے وسیع گھر والے ہیں اور عرب کے لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت ہیں۔ پس تم آؤ عمر کی طرف اور ان کی بیعت کرو۔ راوی کہتے ہیں : انصار نے کہا : نہیں ! حضرت عمر نے پوچھا : کیوں ؟ انصار نے جواب دیا ۔ ہمیں ترجیح دیے جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا۔ بہر حال جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو (یہ) نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے کہا۔ چلو پھر حضرت ابوبکر کی بیعت کرلو۔ ٢۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا۔ تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمر نے (جواباً ) فرمایا : آپ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان دونوں حضرات نے باہم ان جملوں کا تکرار کیا۔ پھر جب تیسری مرتبہ یہ بات ہوئی تو حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ یقینا میری قوت بھی آپ کے لئے ہے اور اس کے ساتھ آپ کو فضیلت بھی حاصل ہے۔ چناچہ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کرلی۔ ٣۔ محمد کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت کے وقت لوگ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا۔ تم لوگ میرے پاس آئے ہو حالانکہ تم میں تین میں سے تیسرا موجود ہے یعنی حضرت ابوبکر ۔ ٤۔ ابن عون کہتے ہیں : میں نے محمد سے پوچھا۔ تین میں سے تیسرا کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ارشاد خداوندی ہے۔ { ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ }۔

حواشی
(١) في [ع]: (رزيق).
(٢) في [ع]: (أتوا).
(٣) في [ع]: (شجمة)، وفي [ي]: (شجنة)، وفي [س]: (سجنته)، وفي [هـ]: (سجية).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) مجهول، لإبهام الرجل شيخ ابن سيرين، أخرجه ابن سعد ٣/ ٢١١ وابن عساكر ٣٠/ ٢٧٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39833
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39833، ترقيم محمد عوامة 38206)