حدیث نمبر: 39791
٣٩٧٩١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: لما أراد رسول اللَّه ﷺ أن يلاعن أهل نجران قبلوا الجزية أن يعطوها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لقد أتاني البشير بهلكة أهل نجران لو تموا على الملاعنة حتى الطير على الشجر أو العصفور على الشجر"، ولما غدا إليهم رسول اللَّه ﷺ أخذ بيد حسن وحسين وكانت فاطمة تمشي خلفه (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجران کے ساتھ مباہلہ کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تحقیق مجھے ایک بشارت دینے والے نے اہل نجران کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اگر یہ لوگ مباہلہ میں مکمل شریک ہوجاتے حتیٰ کہ درختوں پر پرندے بھی … یا … فرمایا… درختوں پر چڑیا بھی۔ “ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اہل نجران کی طرف جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور حضرت فاطمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل رہی تھیں۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39791
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه سعيد بن منصور ٢/ (٥٠٠)، وابن جرير في التفسير ٣/ ٣٠٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39791، ترقيم محمد عوامة 38169)