مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
حديث عبد الله بن أبى (حدرد) الأسلمي باب: سیدنا عبد اللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث
٣٩٧٨٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن (ابن) (١) إسحاق عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط عن القعقاع بن عبد اللَّه بن أبي حدرد الأسلمي عن أبيه عبد اللَّه بن (أبي) (٢) حدرد قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ في سرية ((إلى) (٣) إضم) (٤) قال: فلقينا عامر بن الأضبط، قال: فحيا بتحية الإسلام، فنزعنا عنه، وحمل عليه محلّم بن جثّامة فقتله، فلما قتله سلبه بعيرا له (وأهبًا) (٥)، (ومتيعا) (٦) كان له، فلما قدمنا جئنا بشأنه إلى رسول اللَّه ﷺ فأخبرناه بأمره فنزلت هذه الآية: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا (وَلَا) (٧) (تَقُولُوا) (٨). . .﴾ [النساء: ٩٤] الآية (٩).حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اضم کی طرف ایک لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : پس ہم عامر بن اضبط کو ملے۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے ہمیں مسلمانوں والا سلام کیا۔ لیکن ہم نے ان سے اسلحہ چھین لیا۔ اور محلم بن جثامہ نے ان پر حملہ کردیا اور انہیں قتل کردیا۔ پھر جب اس کو قتل کردیا تو اس کا ایک اونٹ ، سازوسامان قبضہ کرلیا۔ پس جب ہم واپس آئے تو ہم نے ان کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے معاملہ کی خبر سنائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔” اے ایمان والو ! جب تم اللہ کے راستے میں جہاد کرلو تو تحقیق کرلو اور ایسے شخص کو جو اسلام کا اظہار کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں ہے۔ “ ٢۔ ابن اسحق کہتے ہیں ۔ مجھے محمد بن جعفر نے زید بن ضمرہ سے روایت کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں … مجھے میرے والد اور چچا نے بیان کیا … اور یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین میں شریک تھے … یہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ تو قبیلہ خندف کے سردار حضرت اقرع بن حابس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور یہ محلم کے خون سے مانع بن رہے تھے۔ اور حضرت عیینہ بن حصن کھڑے ہوئے اور عامر بن اضبط قیسی کا خون بہا طلب کرنے لگے … اور یہ اشجعی تھے … راوی کہتے ہیں : مں ل نے عیینہ بن حصن کو کہتے ہوئے سُنا کہ میں اس کی عورتوں کو غم و حزن کی وہ کیفیت ضرور چکھاؤں گا جو اس نے میری عورتوں کو چکھائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” تم لوگ دیت قبول کرلو ؟ “ انہوں نے انکار کیا۔ تو بنو لیث میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جس کو مُکَیْتَلْ کہا جاتا تھا اور اس نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! خدا کی قسم ! میں اسلام کے روشن زمانے میں اس مقتول کو تشبیہ نہیں دوں گا مگر ایسی بکری سے جو بکری کہیں آگئی ہو اور اس کو تیر لگ گیا تو اس نے دوسروں کو بھی بھگا دیا۔ آپ آج کے دن ہی کوئی راستہ متعین کردیں اور کل (آنے والے حالات) کو بدل دیں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے فرمایا : ” ہمارے اس سفر میں تمہیں پچاس ملیں گے اور پچاس تب ملیں گے جب ہم واپس پلٹ آئیں گے “۔ راوی کہتے ہیں : پس انہوں نے دیت قبول کرلی۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : تم اپنے آدمی کو لے آؤ تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لئے استغفار کریں ۔ پس اس آدمی کو لایا گیا۔ راوی اس کی حالت بیان کرتے ہیں کہ اس پر وہی جوڑا تھا جس میں اس نے قتل کیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس سے) پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ ا س آدمی نے جواب دیا : محلَّم بن جثامہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (اور کہا) اے اللہ ! محلم بن جثامہ کی مغفرت نہ فرمانا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس شخص نے ہمیں بیان کیا کہ یہ (بد دعاء والی) بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہراً فرمائی تھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے تنہائی میں استغفار کیا تھا۔ ٤۔ ابن اسحاق کہتے ہیں۔ عمرو بن عبید نے مجھے حسن کے حوالہ سے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محلم سے کہا۔ تم نے اس کو (پہلے) خدا کے نام پر پناہ دے دی اور پھر اس کو قتل کردیا۔ خدا کی قسم ! محلم سات دن بھی نہ رہا کہ مرگیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حسن کو خدا کی قسم کھاتے ہوئے سُنا کہ : محلم کو تین مرتبہ دفن کیا گیا لیکن ہر مرتبہ زمین اس کو باہر پھینک دیتی تھی۔ راوی کہتے ہیں : چناچہ لوگوں نے انہیں دو پہاڑوں کے درمیان رکھا اور ان پر بڑے بڑے پتھر رکھ دیئے پھر ان کو درندوں نے کھالیا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان صاحب کا معاملہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” بہرحال خدا کی قسم ! زمین تو اس سے بھی زیادہ شریر لوگوں کو چھپا لیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تم کو آپس کی حرمت کے بارے میں خبر دے (اس لئے یہ واقعہ رونما ہوا) ۔