٣٩٧٨٧ - حدثنا جعفر بن عون (أخبرنا) (١) المسعودي عن إسماعيل بن أوسط عن محمد بن أبي كبشة الأنماري عن أبيه قال: لما كان في غزوة تبوك سارع (ناس إلى) (٢) أصحاب الحجر، فدخلوا عليهم، فبلغ ذلك رسولَ اللَّه ﷺ، فأمر فنودي: إن الصلاة جامعة، قال: فأتيته وهو ممسك ببعيره وهو يقول: "علام تدخلون على قوم غضب اللَّه عليهم؟ " (قال) (٣): فناداه رجل تعجبا (منهم) (٤): يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أفلا أنبئكم بما هو أعجب من ذلك؟ رجل من أنفسكم يحدثكم بما كان قبلكم وبما يكون بعدكم، (استقيموا) (٥) (و) (٦) سددوا فإن اللَّه لا يعبأ بعذابكم ⦗١٢٠⦘ شيئا، وسيأتي اللَّه بقوم لا يدفعون عن أنفسهم (بشيء) (٧) " (٨).حضرت محمد بن کبشہ انماری، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (ہم لوگ) جب غزوہ تبوک (میں) تھے تو کچھ لوگ جلدی جلدی اصحاب الحجر (کے کھنڈرات) میں داخل ہونے لگے تو یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تو آواز لگائی گئی۔ ان الصلاۃ جامعۃ … راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ” خدا کی غضب شدہ قوم پر تم کیوں داخل ہوئے ؟ “ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ن سے تعجب میں پڑ کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس سے بھی عجیب بات نہ بتاؤں ؟ ایک آدمی تمہیں میں سے ہے اور وہ تم کو پہلوں کی باتیں بیان کرتا ہے اور آنے والی بھی بیان کرتا ہے۔ استقامت کا مظاہرہ کرو اور سیدھے ہو جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں عذاب دینے میں کسی شئی کی پروا نہیں ہے۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائیں گے جو خود سے کسی شئی کو دور نہیں کریں گے۔