٣٩٧٨١ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (حدثنا) (٢) عمرو بن يحيى عن العباس ابن سهل بن سعد الساعدي عن أبي حميد الساعدي قال: خرجنا مع رسول اللَّه صلى اللَّه عليه أوسلم عام تبوك حتى (جئنا) (٣) وادي القرى، وإذا امرأة في حديقة لها، (فقال) (٤) رسول اللَّه ﷺ (٥): "اخرصوا"، (قال) (٦): (فخرص) (٧) القوم، (وخرص) (٨) رسول اللَّه ﷺ عشرة أوسق، وقال للمرأة: "أحصي ما يخرج منها حتى أرجع إليك إن شاء اللَّه". (قال) (٩): فخرج رسول اللَّه ﷺ حتى قدم تبوك، فقال: "إنها ستهب عليكم الليلة ريح شديدة، فلا يقومن (رجل فيها) (١٠)، فمن كان له بعير فليوثق عقاله"، قال: قال أبو حميد: فعقلناها، فلما كان من الليل هبت ريح شديدة، فقام ⦗١١١⦘ فيها رجل فألقته في (جبلي) (١١) طيء. ثم جاء رسول اللَّه ﷺ إلى ملك أيلة، فأهدى إلى رسول اللَّه ﷺ بغلة بيضاء، فكساه رسول اللَّه ﷺ بردا، (وكتب) (١٢) له رسول اللَّه ﷺ (١٣) ببحرهم، قال: ثم أقبل وأقبلنا معه حتى جئنا وادي القرى، فقال (للمرأة) (١٤): "كم حديقتك؟ " قالت: عشرة أوسق، خرص رسول اللَّه ﷺ. (قال) (١٥) (رسول اللَّه) (١٦) ﷺ (١٧): "إني متعجل فمن أحب منكم أن يتعجل فليفعل"، قال: فخرج رسول اللَّه ﷺ وخرجنا معه، حتى إذا (أوفى) (١٨) على المدينة قال: "هذه طابة"، فلما رأى أحدا قال: "هذا جبل يحبنا ونحبه" (١٩).حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تبوک کے سال (غزوہ کے لئے) نکلے یہاں تک کہ جب ہم وادی قُریٰ میں پہنچے تو ایک عورت (کو ہم نے دیکھاجو) اپنے باغ میں کھڑی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا : ” (کھجوروں کا) اندازہ لگاؤ۔ “ راوی کہتے ہیں۔ لوگوں نے (کھجوروں کا) اندازہ لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کھجوروں کا اندازہ لگایا اور دس وسق کا اندازہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت سے فرمایا : ” ان کھجوروں سے جتنی (زکوۃ) نکلتی ہے اس کا حساب کرلینا۔ میں ان شاء اللہ تمہارے پاس واپس آؤں گا۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک میں تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” آج کی رات تم پر شدید ہوا چلے گی۔ پس کوئی آدمی اس ہوا میں کھڑا نہ ہو۔ اور جس آدمی کے پاس اونٹ ہو وہ اس اونٹ کی رسی باندھ دے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوحمید بیان کرتے ہں ز۔ ہم نے اونٹوں کو باندھ لیا۔ پس جب رات ہوئی تو خوب تیز ہوا چلی ۔ اور اس ہوا میں ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا نے اس کو طَیْ کے دو پہاڑوں میں دے مارا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شاہ ایلہ حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سفید خچر ہدیہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک چادر عطا فرمائی اور اس کو ان کے سمندر کے بارے میں تحریر لکھ دی۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آگے بڑھے یہاں تک کہ ہم وادی قُریٰ میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا۔ تمہارے باغ (کی زکوۃ کتنی) ہے ؟ عورت نے جواب دیا۔ آپ کے اندازہ کے مطابق دس وسق ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو جلدی چلوں گا۔ تم میں سے جو آدمی جلدی چلنا چاہے وہ بھی (میرے ساتھ) چلے “ راوی کہتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے سامنے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پاکیزہ جگہ ہے “ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احدپہاڑ کو دیکھا تو فرمایا ” یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ “