حدیث نمبر: 39776
٣٩٧٧٦ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (حدثنا) (٢) عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن عبد اللَّه بن زيد قال: لما أفاء اللَّه على رسوله يوم حنين ما أفاء قسم في ⦗١٠٣⦘ الناس في المؤلفة قلوبهم، ولم يقسم ولم يعط الأنصار شيئًا، فكأنهم وجدوا إذ لم يصيبهم ما أصاب الناس، فخطبهم فقال: "يا معشر الأنصار! ألم أجدكم ضلالا فهداكم اللَّه بي، وكنتم متفرقين فجمعكم اللَّه بي، وعالة فأغناكم اللَّه بي"، قال: كلما قال شيئا قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ، قال: "فما يمنعكم أن تجيبوا؟ " قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ، قال: "لو شئتم قلتم: جئتنا كذا وكذا، أما ترضون أن يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول (٣) اللَّه إلى رحالكم، (لولا) (٤) الهجرة لكنت امرأ من الأنصار، لو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبهم، الأنصار شعار والناس دثار، وإنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن زید سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو غزوہ حنین میں جو مال غنیمت میں دینا مقصود تھا وہ عطا فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مال لوگوں میں اور مؤلفۃ القلوب میں تقسیم فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار میں کوئی مال بھی تقسیم نہیں فرمایا اور ان کو نہیں دیا۔ اس پر گویا جب انہیں حصہ نہیں ملا تو انہوں نے محسوس کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے ہدایت بخشی اور تم لوگ پراگندہ و منتشر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے اکٹھا فرمایا۔ اور کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے غنی کردیا۔ “ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کوئی بات پوچھتے تو صحابہ جوا ب میں کہتے : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں جواب دینے سے کیا چیز مانع ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہو۔ آپ ایسی ایسی حالت میں ہمارے پاس آئے تھے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے کجاو وں کی طرف اللہ کے رسول کو لے جاؤ ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا ۔ اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی مانند) ہیں اور بقیہ لوگ جسم سے اوپر کے کپڑے (کی مانند) ہیں۔ تم لوگ میرے بعد ترجیح نفس کا مشاہدہ کرو گے لیکن تم صبر کرنا، یہاں تک کہ تم میرے ساتھ حوض پر آ ملو۔

حواشی
(١) في [ي]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (أخبرنا).
(٣) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٤) في [أ]: (لولى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39776
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣٠)، ومسلم (١٠٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39776، ترقيم محمد عوامة 38156)