٣٩٧٧٢ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (٢) يعلى ابن عطاء عن أبي همام عبد اللَّه بن يسار عن أبي عبد الرحمن الفهري قال: كنت مع رسول اللَّه ﷺ في غزوة حنين، فسرنا في يوم قائظ شديد الحر، فنزلنا تحت ظلال الشجر، فلما زالت الشمس لبست لامتي وركبت (٣) فرسي، فانطلقت إلى رسول اللَّه ﷺ وهو في فسطاطه فقلت: السلام عليك يا رسول اللَّه ورحمة اللَّه، الرواح حان الرواح، فقال: " أجل"، فقال: "يا بلال"، فثار من تحت (سمرة) (٤) كأن ظله ظل طائر، فقال: لبيك وسعديك وأنا فداؤك، فقال: "اسرج لي فرسي"، فأخرج سرجا دفتاه من ليف، ليس فيهما أشر ولا بطر، قال: فأسرج، (قال) (٥): فركب ⦗١٠٠⦘ وركبنا (وصاففناهم) (٦) عشيتنا وليلتنا، فتشامت الخيلان، فولى المسلمون مدبرين كما قال اللَّه (٧)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا عباد اللَّه أنا عبد اللَّه ورسوله"، (ثم قال: "يا معشر المهاجرين أنا عبد اللَّه ورسوله") (٨)، ثم اقتحم رسول اللَّه ﷺ عن فرسه فأخذ كفا من تراب، فأخبرني الذي كان أدنى إليه مني أنه ضرب به وجوههم، وقال: "شاهت الوجوه"، (قال) (٩): فهزمهم اللَّه (١٠).حضرت عبد الرحمن الفہری سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں : کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ ہم ایک انتہائی سخت گرمی والے دن میں چلے پھر ہم نے درختوں کے سایہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر جب سورج زوال کر گیا تو میں نے اپنا سامان حرب پہن لیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خیمہ میں تھے۔ میں نے (جا کر) کہا : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ ، وَرَحْمَۃُ اللہِ روانگی ! روانگی کا وقت ہوگیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے بلال ! پس وہ بھی ایک ایسے درخت کے نے چن سے گرد جھاڑتے ہوئے اٹھے جس کا سایہ پرندے کے سایہ کی طرح تھا۔ اور انہوں نے (آ کر) عرض کیا۔ میں آپ پر فدا ہوں۔ میں حاضر ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛ میرے گھوڑے پر زین کس دو ۔ چناچہ حضرت بلال نے ایک زین نکالی جس کے اطراف میں گھاس لگا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر حضرت بلال نے گھوڑے پر زین کس دی۔ ٢۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوار ہوگئے اور ہم بھی سوار ہوگئے اور ہم نے رات ، دن ان کے سامنے صف بندی کی اور مسلمانوں اور کافروں کے گھڑ سواروں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی۔ جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے … مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی۔ ” اے خدا کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے گروہ مہاجرین ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھوڑے اترے اور ایک مٹھی مٹی کی لی … مجھے اس صحابی نے بتایا جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینکی اور فرمایا ۔ ” چہرے بگڑ جائیں۔ “ راوی کہتے ہیں : پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی۔ ٣۔ یعلی رضی اللہ عنہ بن عطاء کہتے ہیں۔ مجھ سے مخالفین کے بیٹوں نے اپنے آباء کی سند سے بیان کیا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں بچا مگر یہ کہ ا س کی آنکھیں اور منہ مٹی سے بھر گیا اور ہم نے آسمان اور زمین کے درمیان ایک گھنٹی کی آواز سُنی جیسا کہ لوہے کی طشت پر لوہا مارنے سے نکلتی ہے۔