حدیث نمبر: 39694
٣٩٦٩٤ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) مسعر عن (عمرو) (٢) بن مرة عن الزهري قال: قال رجل من بني (الديل) (٣) بن بكر: لوددت أني رأيت رسول اللَّه ﷺ وسمعت منه فقال (لرجل) (٤): انطلق معي، فقال: إني أخاف أن (تقتلني) (٥) خزاعة، فلم يزل به حتى انطلق، فلقيه رجل من خزاعة (فعرفه) (٦) فضرب بطنه بالسيف، قال: قد أخبرتك أنهم سيقتلونني، فبلغ ذلك رسول اللَّه ﷺ، فقام فحمد اللَّه وأثنى عليه، ثم قال: "إن اللَّه (هو) (٧) حرم مكة ليس الناس حرموها، وإنما ⦗٥٧⦘ أحلت لي ساعة من نهار وهي بعد حرم، وإن أعدى الناس على اللَّه ثلاثة: من قتل (فيها) (٨)، أو قتل غير (قاتل) (٩)، أو طلب (بذحول) (١٠) الجاهلية، فلأدين (هذا) (١١) الرجل" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زہری روایت بیان کرتے ہیں کہ بنو دؤل بن بکرکے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ ارشادات سنوں۔ چناچہ اس نے ایک آدمی سے کہا۔ تم میرے ساتھ چلو۔ اس آدمی نے کہا۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں بنو خزاعہ کے لوگ مجھے قتل نہ کردیں۔ (بہر حال) یہ اس کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی اس کو ملا اور اس نے اس کو پہچان لیا اور اس نے اس کے پیٹ میں تلوار ماری۔ اس مقتول نے کہا۔ میں نے تمہیں (پہلے) خبر دی تھی کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں گے۔ پھر یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (خود) مکہ کو حرم بنایا ہے لوگوں نے مکہ کو حرم نہیں بنایا۔ یہ مکہ تو میرے لئے دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا تھا اور اس کے بعد ابھی تک حرام ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے تین لوگ ہیں۔ وہ آدمی جو مکہ میں قتل کرے۔ وہ آدمی جو غیر قاتل کو قتل کرے۔ وہ آدمی جو جاہلیت کے انتقام مانگے۔ پس البتہ میں (خود) اس آدمی کی دیت دوں گا۔ “

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (عامر)، وفي [ق، هـ]: (عمر).
(٣) في [ق]: (وائل)، وفي [هـ]: (الدئل).
(٤) في [ب]: (الرجل).
(٥) في [ب]: (يقتلني).
(٦) في [أ، ب]: (فعرف).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) في [ي]: (منها).
(٩) في [جـ، ع، ق، ي]: (قاتله).
(١٠) في [أ، ب، س، ط]: (بدخول).
(١١) في [أ، ب]: (فهذا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39694
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي، ومراسيله من أضعف المراسيل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39694، ترقيم محمد عوامة 38077)