٣٩٦٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي ﷺ قال يوم فتح مكة: "كفوا السلاح إلا خزاعة (عن) (٢) بني بكر"، فأذن لهم حتى صلوا العصر ثم قال لهم: "كفوا السلاح"، فلقي من الغد رجلٌ من خزاعة رجلا من بني بكر، فقتله بالمزدلفة فبلغ ذلك رسول اللَّه ﷺ فقام خطيبا فقال: "إن (أعدى) (٣) الناس على اللَّه من قتل في الحرم، ومن قتل غير قاتله، ومن قتل (بذحول) (٤) الجاهلية" (٥).حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اپنے دادا کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ارشاد فرمایا۔ سوائے خزاعہ کے بنو بکر سے (بقیہ لوگ) اسلحہ روک لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خزاعہ کو اجازت دی یہاں تک کہ انہوں نے نماز عصر پڑھ لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا۔ تم (بھی) اسلحہ روک لو۔ اس کے بعد اگلے دن بنو خزاعہ کا ایک آدمی بنو بکر کے ایک آدمی سے ملا تو اس نے بنو بکر کے آدمی کو مزدلفہ میں قتل کردیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اللہ کے ساتھ لوگوں میں سب سے زیادہ دشمنی کرنے والا شخص وہ ہے جو (کسی کو) حرم میں قتل کرے اور (وہ) جو اپنے قاتل کے علاوہ (کسی کو) قتل کر ڈالے اور (وہ) جو جاہلیت کے انتقام میں قتل کرے۔