٣٩٦٧٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن زكريا بن أبي زائدة قال: كنت مع أبي إسحاق فيما بين مكة والمدينة فسايرنا رجل من خزاعة، فقال له (أبو) (١) إسحاق: كيف (قال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: لقد (رعدت) (٣) هذه السحابة بنصر بني كعب، [فقال (٤) الخزاعي: لقد (نصلت) (٥) بنصر بني كعب] (٦)، ثم أخرج إلينا رسالة رسول ⦗٤٥⦘ اللَّه ﷺ إلى خزاعة، (وكتبتها) (٧) يومئذ كان فيها: "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ من محمد رسول اللَّه إلى بديل وبسر وسروات بني عمرو، فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد ذلكم فإني لم (ثم) (٨) بإلِّكُم ولم (أضع) (٩) في جنبكم، وإن أكرم أهل تهامة عليَّ أنتم وأقربه رحما ومن (تبعكم) (١٠) (١١) من المطيبين، وإني قد أخذت لمن هاجر منكم مثل ما أخذت لنفسى، ولو هاجر بأرضه غير ساكن مكة إلا معتمرا أو حاجا، وإني لم أضع فيكم إن (أسلمتم) (١٢) وإنكم غير (خائفين) (١٣) من قبلي ولا محصرين، أما بعد فإنه قد أسلم علقمة بن علاثة (وابن) (١٤) هوذة (وبايعا) (١٥) وهاجرا على من اتبعهما من عكرمة، (وأخذ) (١٦) لمن تبعه مثل ما أخذ لنفسه، وإن (بعضنا) (١٧) من بعض في الحلال والحرام، وإني واللَّه ما كذبتكم وليحيكم ربكم" (١٨).حضرت زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ میں ابو اسحاق کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا ۔ توبنو خزاعہ کا ایک آدمی ہمارے پاس آیا۔ ابو اسحاق نے اس سے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کیسے فرمائی تھی ۔ کہ تحقیق یہ بدلی بنی کعب کی مدد کے لئے کڑک رہی ہے ؟ تو اس خزاعی آدمی نے جواب دیا۔ تحقیق اس بدلی نے فیصلہ کردیا تھا بنو کعب کی مدد کا۔ پھر اس خزاعی نے ہمیں ایک خط نکال کر دکھایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے خزاعہ کی طرف تھا۔ اور میں نے اس خط کو اسی دن لکھا۔ اس میں لکھا تھا۔ ” اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بدیل، بسر اور سرواتِ بنی عمرو کی طرف ہے۔ پس بیشک میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ بہرحال اس کے بعد، میں نے تمہارا عہد نہیں توڑا اور نہ ہی میں نے تمہاری زمین کو مباح کیا ہے۔ اور اہل تہامہ میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ تم لوگ معزز ہو۔ اور سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہو۔ اور (اسی طرح) وہ لوگ جنہوں نے تمہاری اتباع کی ہے (یعنی بنو ہاشم، بنو زہرہ وغیرہ) ۔ اور میں نے تم میں سے ہجرت کرنے والوں کے لئے بھی وہی پیمان باندھا ہے جو میں نے اپنے لئے باندھا ہے۔ اور اگر (تم میں سے) کوئی اپنی زمین سے (اسی طرح) ہجرت کرے کہ وہاں سکونت نہ رکھے مگر حج اور عمرہ کے لئے۔ اگر تم سلامتی قبول کرلو تو میں تمہارے بارے میں کوئی حکم نہیں دوں گا۔ اور تم لوگ میری طرف سے نہ خائف ہو اور نہ محصور۔ ٢۔ اما بعد ! پس بلاشبہ علقمہ بن علاثہ اور ابن ہوزہ نے اسلام قبول کرلیا اور انہوں نے اپنے تابع … عکرمہ… کے ہمراہ ہجرت کی ہے۔ اور ان کے لئے بھی اس نے وہی کچھ پیمان باندھا ہے جو اس نے اپنے لیے باندھا ہے ۔ اور ہم میں سے بعض، بعض کے حکم میں ہے حلا ل اور حرام ہونے کے اعتبار سے۔ اور بخدا میں نے تمہیں نہیں جھٹلایا اور پس تمہارا پروردگار تمہیں حیات دے۔ ٣۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھے زہری سے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ یہ لوگ خزاعہ کے ہیں۔ اور یہ میرے اہل میں سے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف خط تحریر فرمایا۔ یہ لوگ اس وقت عرفات اور مکہ کے درمیان پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ اور یہ لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیف تھے۔