٣٩٦٧٣ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة قال: لما (وادع) (٢) رسول اللَّه ﷺ أهل مكة، وكانت خزاعة حلفاء رسول اللَّه ﷺ في الجاهلية، وكانت بنو بكر حلفاء قريش، فدخلت خزاعة في صلح رسول اللَّه ﷺ، ودخلت بنو بكر في صلح قريش. ⦗٣٨⦘ فكان بين خزاعة وبين بني بكر قتال (فأمدتهم) (٣) قريش بسلاح وطعام، وظللوا عليهم، فظهرت بنو بكر على خزاعة وقتلوا (فيهم) (٤)، فخافت قريش أن يكونوا (قد) (٥) نقضوا، فقالوا لأبي سفيان: اذهب إلى محمد (فأجدّ) (٦) (الحلف) (٧) وأصلح بين الناس. فانطلق أبو سفيان حتى قدم المدينة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "قد جاءكم أبو سفيان وسيرجع راضيا بغير حاجته"، فأتى أبا بكر فقال: يا أبا بكر (أجدّ) (٨) الحلف وأصلح بين الناس، أو قال: بين قومك، قال: ليس الأمر لي الأمر إلى اللَّه وإلي رسوله، قال: وقد قال له فيما قال: ليس من قوم ظللوا على (قوم) (٩) وأمدوهم بسلاح وطعام أن يكونوا نقضوا، فقال أبو بكر: الأمر إلى اللَّه و (إلى) (١٠) رسوله. ثم أتى عمر بن الخطاب فقال: له نحوا مما قال لأبي بكر، قال: فقال له عمر: أنقضتم فما كان منه جديدا فأبلاه اللَّه، وما كان منه شديدا أو (متينًا) (١١) فقطعه اللَّه، فقال أبو سفيان: ما رأيت كاليوم شاهد عشيرة. ثم أتى فاطمة فقال: يا فاطمة هل لك في أمر تسودين فيه نساء قومك، ثم ذكر لها نحوا مما ذكر لأبي بكر فقالت: ليس الأمر إليَّ، الأمر إلى اللَّه وإلى رسوله، ثم أتى عليًّا فقال: فقال له: نحوا مما قال لأبي بكر، فقال له علي: ما رأيت كاليوم ⦗٣٩⦘ رجلا أضل، أنت (سيد) (١٢) الناس (فأجد) (١٣) الحلف وأصلح بين الناس، قال: فضرب إحدى يديه على الأخرى وقال: قد أجرت الناس بعضهم من بعض. ثم ذهب حتى قدم على (أهل) (١٤) مكة فأخبرهم بما صنع، فقالوا: واللَّه ما رأينا اليوم وافد قوم، واللَّه ما (أتيتنا) (١٥) بحرب فنحذر، ولا (أتيتنا) (١٦) (بصلح) (١٧) فنأمن، ارجع. قال: وقدم وافد خزاعة على رسول اللَّه ﷺ فأخبره بما صنع القوم (ودعا) (١٨) إلى النصرة وأنشده في ذلك شعرا: (لا هم) (١٩) إني ناشد محمدا … حلف أبينا وأبيه (الأتلدا) (٢٠) ووالدا (كنت وكنا) (٢١) ولدا … إن قريشا أخلفوك الموعدا ونقضوا ميثاقك (المؤكدا) (٢٢) … وجعلوا لي (بكداء) (٢٣) (رصدا) (٢٤) وزعمت أن لمست أدعو أحدا … فهم أذل وأقل عددا ⦗٤٠⦘ وهم أتونا بالوتير هجدا … (نتلوا) (٢٥) القرآن ركعا وسجدا ثمت أسلمنا ولم (ننزع) (٢٦) يدا … فانصر رسول اللَّه نصرا (أعتدا) (٢٧) وابعث جنود اللَّه (تأتي) (٢٨) مددا … في فيلق كالبحر يأتي مزبدا فيهم رسول اللَّه قد تجردا … إن (سيم) (٢٩) (خسفا) (٣٠) وجهه تربدا قال حماد: هذا الشعر بعضه (عن أيوب، وبعضه عن) (٣١) يزيد بن حازم وأكثره عن محمد بن إسحاق. ثم رجع إلى حديث أيوب عن عكرمة قال: قال حسان بن ثابت (٣٢): أتاني ولم أشهد ببطحاء مكة … (رجال) (٣٣) بني كعب تحز رقابها وصفوان عود (خَرّ) (٣٤) مِن (وَدْق) (٣٥) استه … فذاك (أوان) (٣٦) الحرب شُدّ عصابها ⦗٤١⦘ فلا تجزعن يا ابن أم مجالد … فقد صرحت (صرفا) (٣٧) وعصل نابها فياليت شعري هل ينالن مرة … سهيل بن عمرو حوبها وعقابها قال: فأمر رسول اللَّه ﷺ بالرحيل فارتحلوا، فساروا حتى نزلوا مرا، قال: وجاء أبو سفيان حتى نزل مرا ليلًا، قال: فرأى العسكر والنيران فقال: (من) (٣٨) هؤلاء؟ فقيل: هذه تميم محلت بلادها (فانتجعت) (٣٩) بلادكم، قال: واللَّه لهؤلاء أكثر من أهل (منى) (٤٠)، (أو قال: مثل أهل منى) (٤١). فلما علم أنه النبي ﷺ قال: دلوني على (العباس) (٤٢)، فأتى العباس فأخبره الخبر، وذهب به إلى رسول اللَّه ﷺ، ورسول اللَّه ﷺ (٤٣) في قبة (له) (٤٤) فقال له: "يا أبا سفيان أسلم تسلم"، فقال: كيف أصنع باللات والعزى؟. قال أيوب: (فحدثني) (٤٥) أبو (الخليل) (٤٦) عن سعيد بن جبير، قال: قال له عمر بن الخطاب وهو خارج من القبة في عنقه السيف: اخْرَ عليها، أما واللَّه (أن) (٤٧) لو كنت خارجا من القبة ما قلتها أبدا، قال: قال أبو سفيان: من هذا؟ قالوا: عمر بن الخطاب (٤٨). ⦗٤٢⦘ ثم رجع إلى حديث أيوب عن عكرمة: فأسلم أبو سفيان وذهب به العباس إلى منزله، فلما أصبحوا ثار الناس لطهورهم، قال: فقال أبو سفيان: يا أبا الفضل ما للناس أمروا بشيء؟ قال: لا ولكنهم قاموا إلى الصلاة، قال: فأمره العباس فتوضأ ثم ذهب به إلى رسول اللَّه ﷺ، فلما دخل رسول اللَّه ﷺ (٤٩) الصلاةَ كبر، فكبر الناس، ثم ركع فركعوا ثم رفع فرفعوا، فقال أبو سفيان: (ما) (٥٠) رأيت كاليوم طاعة قوم جمعهم من هاهنا وههنا، ولا فارس (الأكارم) (٥١) ولا الروم (٥٢) ذات القرون بأطوع منهم له. قال: حماد وزعم يزيد بن حازم عن عكرمة أن أبا سفيان قال: يا أبا الفضل أصبح بن أخيك -واللَّه- عظيم الملك، قال: (فقال له) (٥٣) العباس: إنه ليس بملك ولكنها (نبوة) (٥٤)، قال: أو ذاك؟ (أو ذاك) (٥٥) (٥٦). (ثم) (٥٧) رجع إلى حديث أيوب عن عكرمة قال: قال أبو سفيان: واصباح قريش، قال: فقال العباس: يا رسول اللَّه، لو أذنت لي (فأتيتهم) (٥٨) فدعوتهم (فأمنتهم) (٥٩)، وجعلت لأبي سفيان شيئا يذكر به، فانطلق العباس فركب بغلة ⦗٤٣⦘ رسول اللَّه ﷺ (٦٠) الشهباء، وانطلق، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ردوا عليَّ أبي، ردوا علي أبيَّ، فإن عم الرجل صنو أبيه، إني أخاف أن تفعل به قريش ما فعلت ثقيف بعروة بن مسعود، دعاهم إلى اللَّه فقتلوه، أما واللَّه لئن ركبوها منه لأضرمنها عليهم نارًا". فانطلق العباس حتى قدم مكة، فقال: يا أهل مكة أسلموا تسلموا، قد استبطنتم بأشهب (بازل) (٦١)، وقد كان رسول اللَّه ﷺ بعث الزبير من قبل أعلى مكة، (وبعث) (٦٢) خالد (بن الوليد) (٦٣) من قبل أسفل مكة، فقال لهم العباس: هذا الزبير من قبل أعلى مكة، وهذا خالد من قبل أسفل مكة، وخالد (وما) (٦٤) خالد؟ وخزاعة (المجدعة) (٦٥) الأنوف، ثم قال: من ألقى سلاحه فهو آمن. ثم قدم رسول اللَّه ﷺ فتراموا بشيء من النبل، ثم إن رسول اللَّه ﷺ ظهر عليهم فأمن الناس إلا خزاعة (من) (٦٦) بني بكر (فذكر) (٦٧) أربعة: مقيس بن صبابة، وعبد اللَّه بن أبي سرح، وابن (خطل) (٦٨)، وسارة (مولاة) (٦٩) بني هاشم، قال حمادة: سارة -في حديث أيوب، (أو) (٧٠) في حديث (غيره) (٧١). ⦗٤٤⦘ قال: فقتلهم خزاعة إلى نصف النهار، وأنزل اللَّه: ﴿أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (١٣) قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ (٧٢) بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ (٧٣) وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ (٧٤) وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ﴾ (قال: خزاعة) (٧٥): ﴿وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ﴾ قال: خزاعة: ﴿وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ. .﴾ [التوبة: ١٣ - ١٥]، (قال: خزاعة) (٧٦) (٧٧).حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اہل مکہ کے ساتھ صلح کی اور قبیلہ خزاعہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہلیت میں بھی حلیف تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے۔ لہٰذا (اس صلح میں بھی) خزاعہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صلح میں داخل ہوگئے اور بنو بکر قریش کی صلح میں داخل ہوگئے۔ پھر بنو خزاعہ اور بنو بکر میں کوئی لڑائی ہوئی تو قریش نے بنو بکر کی اسلحہ اور کھانے کے ساتھ خوب مدد کی۔ اور (گویا) ان پر سایہ فگن ہوگئے۔ پس بنو بکر، قبیلہ خزاعہ پر غالب آگئے اور بنو بکر نے قبیلہ خزاعہ کے بہت لوگ قتل کئے۔ پھر قریش کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنا عہد (جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا ہو) توڑ چکے ہیں۔ تو انہوں نے ابو سفیان سے کہا۔ جاؤ محمد کی طرف اور معاہدہ کی تجدید کرو ا لو اور لوگوں میں صلح کروا لو۔ ٢۔ ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ مدینہ میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تحقیق تمہارے پاس ابوسفیان آ رہا ہے اور عنقریب وہ اپنی حاجت (پوری کئے) بغیر واپس پلٹے گا۔ چناچہ ابو سفیان، حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے ابوبکر ! معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح ہی رہنے دو ۔ یا یہ الفاظ کہے کہ … اپنی قوم کے درمیان صلح ہی رہنے دو ۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے بس میں نہیں ہے یہ تو اللہ اور اس کے رسول کے بس میں ہے۔ راوی کہتے ہیں : ابو سفیان نے جو باتیں حضرت ابوبکر سے کہیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ۔ یہ با ت نہیں ہے کہ اگر کسی قوم نے دوسری قوم کو اسلحہ اور کھانے کے ذریعہ سے مدد کی ہو اور ان پر سایہ کیا ہو تو وہ عہد کو توڑنے والے ہوں۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بس میں ہے۔ ٣۔ پھر ابو سفیان حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور ان سے بھی ویسی باتیں کہیں جیسی باتیں اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا۔ کیا تم نے عہد توڑ دیا ہے ؟ پس اس بارے میں جو نئی بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے پرانا کردیا ہے اور جو مضبوط اور سخت بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے توڑ ڈالا ہے۔ ابو سفیان کہتا ہے میں نے اس د ن کی طرح قوم کو نہیں دیکھا ؟ پھر ابو سفیان حضرت فاطمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے فاطمہ ! کیا تم وہ کام کرو گی جس میں تم اپنی قوم کی خواتین کی سیادت کرو۔ پھر ابو سفیان نے ان سے بھی ویسی بات ذکر کی جیسی بات اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت فاطمہ نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے اختیار میں نہیں ہے (بلکہ) یہ معاملہ تو اللہ اور اس کے رسول کے اختیار میں ہے۔ پھر ابو سفیان، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ویسی بات ہی کہی جیسی بات حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دیا۔ میں نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی گمراہ آدمی نہیں دیکھا ! تم تو لوگوں کے سردار ہو پس تم معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو سفیان نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور کہنے لگا۔ تحقیق میں نے لوگوں میں سے بعض کو بعض سے پناہ دے دی ہے۔ ٤۔ پھر ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ اہل مکہ کے پاس پہنچا اور انہیں وہ بات بتلائی جو اس نے سرانجام دی تھی۔ تو انہوں نے (آگے سے) کہا۔ خدا کی قسم ! ہم نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی قوم کا نمائندہ نہیں دیکھا۔ بخدا ! نہ تو تم جنگ کی خبر ہمارے پاس لائے ہو کہ ہم (اس سے) بچاؤ کریں اور نہ ہی تم ہمارے پاس صلح کی خبر لے کر آئے ہو کہ ہم مامون ہوجائیں۔ (لہٰذا) تم واپس جاؤ۔ ٥۔ راوی کہتے ہیں : (اتنے میں) قبیلہ خزاعہ کا نمائندہ وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرکین مکہ کے کئے کی خبر سنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدد کے لئے بلایا اور اس بات کو اس نے ان شعروں میں بیان کیا۔ اے اللہ ! محمد کو اپنے اور ان کے آباء کا پرانا عہد یاد دلاتا ہوں۔ اور (یہ بات کہ) آپ والد ہیں اور ہم بیٹے ہیں۔ بلاشبہ قریش نے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔ اور انہوں نے آپ کے پختہ عہد کو توڑ ڈالا ہے اور انہوں نے ہمارے لئے مقما کداء میں گھات لگایا ہے۔ اور انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ میں کسی کو (مدد کے لئے) نہیں بلاؤں گا ۔ حالانکہ وہ لوگ تو تعداد میں تھوڑے اور ذلیل ہیں۔ وہ لوگ ہم پر مقام ونیر میں صبح کو حملہ آور ہوئے جبکہ ہم رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔ ہم نے اسلام قبول کیا ہے اور اپنا ہاتھ واپس نہیں کھینچا۔ پس … اے اللہ کے رسول… خوب سخت مدد کیجئے۔ اور آپ اللہ کے لشکروں کو ابھاریں پس یہ آپ کے پاس مدد کیلئے ایسے