حدیث نمبر: 39670
٣٩٦٧٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) محمد بن عمرو عن أبي سلمة ويحيى بن (عبد الرحمن) (٢) بن حاطب قالا: كانت بين رسول اللَّه ﷺ وبين المشركين هدنة، (فكان) (٣) بين بني كعب وبين بني بكر قتال بمكة. فقدم صريخ بني كعب على رسول اللَّه ﷺ فقال: اللهم (إني) (٤) ناشد محمدا … حلف أبينا وأبيه (الأتلدا) (٥) (فانصر) (٦) هداك اللَّه نصرا (عتدا) (٧) … وادع عباد اللَّه يأتوا مددا فمرت سحابة فرعدت فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن هذه لترعد بنصر بني كعب". ثم قال لعائشة: "جهزيني، ولا (تُعلِمنَّ) (٨) بذلك أحدًا"، فدخل عليها أبو بكر فأنكر بعض شأنها، فقال: ما هذا؟ قالت: أمرني رسول اللَّه ﷺ أن أجهزه، قال: إلى أين؟ (قالت) (٩): إلى مكة، قال: (فواللَّه) (١٠) ما انقضت الهدنة بيننا وبينهم بعد. فجاء أبو بكر إلى رسول اللَّه ﷺ فذكر له فقال النبي ﷺ: "إنهم أول من غدر"، ثم أمر (بالطرق) (١١) فحبست، ثم خرج وخرج المسلمون معه، فغم لأهل مكة ⦗٢٩⦘ (لا) (١٢) يأتيهم خبر، فقال أبو سفيان لحكيم بن حزام: أي حكيم واللَّه لقد (غُمِمْنا) (١٣) و (اغتممنا) (١٤) فهل لك أن تركب ما بيننا وبين (مر) (١٥)، (لعلنا) (١٦) أن نلقى خبرا؟ فقال له بديل بن ورقاء الكعبي من خزاعة: وأنا معكم، قالا: وأنت إن شئت. قال: فركبوا حتى إذا دنوا من ثنية مَر وأظلموا فأشرفوا على الثنية، فإذا النيران قد أخذت الوادي كله، قال أبو سفيان لحكيم: (أي حكيم) (١٧) ما هذه النيران؟ قال بديل ابن ورقاء: (هذه) (١٨) نيران بني عمرو، (جوعتها) (١٩) (الحرب) (٢٠)، قال: أبو سفيان: لا وأبيك (لبنو) (٢١) عمرو (أذل و) (٢٢) أقل من هؤلاء، فتكشف عنهم الأراك، فأخذهم حرس رسول اللَّه ﷺ نفر من الأنصار، وكان عمر بن الخطاب تلك الليلة على الحرس، فجاؤا بهم (إليه) (٢٣) (فقالوا) (٢٤): جئناك بنفر أخذناهم من أهل مكة، فقال عمر وهو يضحك إليهم: واللَّه لو جئتموني بأبي سفيان ما زدتم، قالوا: قد واللَّه أتيناك بأبي سفيان فقال: احبسوه. ⦗٣٠⦘ فحبسوه حتى أصبح، فغدى به على رسول اللَّه ﷺ فقيل له: بايع، فقال: لا أجد إلا ذاك أو شرا منه، فبايع، ثم قيل لحكيم بن حزام: بايع، فقال: أبايعك ولا أخر إلا قائمًا، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أما من قبلنا فلن تخر إلا قائما". فلما ولوا قال أبو بكر: أي رسول اللَّه (٢٥) إن أبا سفيان رجل يحب السماع -يعني الشرف- فقال رسول اللَّه ﷺ: "من دخل دار أبي سفيان فهو آمن إلا ابن خطل، ومِقْيَس بن صُبابة الليثي، وعبد اللَّه بن سعد بن أبي سرح، (والقينتين) (٢٦)، فإن وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة (فاقتلوهم) (٢٧) ". قال: فلما ولوا قال أبو بكر: يا رسول اللَّه (٢٨) لو أمرت بأبي سفيان (فحبس) (٢٩) على الطريق، وأذن في الناس بالرحيل، (فأدركه) (٣٠) العباس فقال: هل لك إلى أن تجلس حتى تنظر، قال: بلى، و (٣١) لم (يكن) (٣٢) ذلك (إلا) (٣٣) أن (يرى) (٣٤) ضعفه، (فيتناولهم) (٣٥). ⦗٣١⦘ فمرت جهينة [فقال: (أي) (٣٦) عباس من هؤلاء؟ قال: هذه جهينة] (٣٧) قال: (ما لي) (٣٨) ولجهينة، واللَّه (ما كانت) (٣٩) بيني وبينهم حرب قط، ثم مرت مزينة فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه مزينة، قال: ما لي ولمزينة، واللَّه ما كانت بيني وبينهم حرب قط، ثم مرت سليم فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه سليم قال: ثم جعلت تمر طوائف العرب (فمرت) (٤٠) عليه أسلم وغفار، (فيسأل) (٤١) عنها فيخبره العباس. حتى مر رسول اللَّه ﷺ في أخريات الناس، في المهاجرين الأولين والأنصار في لامة تلتمع البصر، فقال: أي عباس من هؤلاء؟ قال: هذا رسول اللَّه ﷺ (٤٢) في المهاجرين الأولين والأنصار، قال: لقد أصبح ابن أخيك عظيم الملك، (قال) (٤٣): لا واللَّه، ما هو بمَلِكٍ، (ولكنها) (٤٤) النبوة، وكانوا عشرة آلاف أو اثني عشر ألفًا، قال: ودفع رسول اللَّه ﷺ (الراية) (٤٥) إلى سعد بن عبادة، فدفعها سعد إلى ابنه قيس بن سعد. وركب أبو سفيان فسبق الناس حتى اطلع عليهم من الثنية، قال له أهل ⦗٣٢⦘ مكة: ما وراءك؟ قال: ورائي الدهم، ورائي ما (لا قبل) (٤٦) لكم به، ورائي من لم أر مثله، من دخل داري فهو آمن، فجعل الناس يقتحمون داره. وقدم رسول اللَّه ﷺ فوقف بالحجون بأعلى مكة، وبعث الزبير بن العوام في الخيل في أعلى الوادي، وبعث خالد بن الوليد في الخيل في أسفل الوادي، وقال رسول اللَّه ﷺ: "إنك لخير (٤٧) أرض اللَّه وأحب أرض اللَّه إلي اللَّه، (وإني) (٤٨) واللَّه لو لم أخرج منك ما خرجت، وإنها لم تحل لأحد (كان) (٤٩) قبلي، ولا تحل لأحد بعدي، وإنما أحلت لي (ساعة من النهار) (٥٠)، وهي ساعتي هذه حرام، لا يعضد شجرها، ولا يحتش (جبلها) (٥١)، ولا يلتقط (ضالتها) (٥٢) إلا منشد"، فقال له رجل يقال له (شاء) (٥٣)، والناس يقولون: قال له العباس: يا رسول اللَّه إلا الإذخر، فإنه (لبيوتنا (وقبورنا)) (٥٤) (٥٥) (وقيوننا) (٥٦) أو لقيوننا (وقبورنا) (٥٧). فأما ابن خطل فوجد متعلقا بأستار الكعبة فقتل، وأما مقيس بن (صبابة) (٥٨) ⦗٣٣⦘ فوجدوه بين الصفا والمروة (فتبادروه) (٥٩) نفر من بني كعب ليقتلوه، فقال له ابن عمه (نميلة) (٦٠): خلوا عنه فواللَّه لا يدنوا منه رجل إلا ضربته بسيفي هذا حتى يبرد، فتأخروا عنه فحمل بسيفه ففلق به هامته وكره أن يفخر عليه (أحد) (٦١). ثم طاف رسول اللَّه ﷺ بالبيت، ثم دخل عثمان بن طلحة فقال: أي عثمان، أين المفتاح؟ فقال: هو عند أمي (سلامة) (٦٢) ابنة سعد، فأرسل إليها رسول اللَّه ﷺ، فقالت: لا واللات والعزى، لا أدفعه إليه أبدا، (قال) (٦٣): إنه قد جاء أمر غير الأمر الذي كنا عليه، فإنك إن لم تفعلي قتلت أنا وأخي، قال: فدفعته إليه، قال: فأقبل به حتى إذا كان وجاه رسول اللَّه ﷺ (٦٤) عثر فسقط المفتاح منه، فقام إليه رسول اللَّه ﷺ فأحنى عليه ثوبه. ثم فتح له عثمان فدخل رسول اللَّه ﷺ الكعبة فكبر في زواياها وأرجائها، وحمد اللَّه، ثم صلى بين الأسطوانتين ركعتين، ثم خرج فقام بين (البابين) (٦٥) (فقال) (٦٦) علي: فتطاولت لها ورجوت أن يدفع إلينا المفتاح، فتكون فينا السقاية ⦗٣٤⦘ والحجابة، فقال رسول اللَّه ﷺ (٦٧): " (أين) (٦٨) عثمان؟ هاكم ما أعطاكم اللَّه"، فدفع إليه المفتاح. ثم رقى بلال على ظهر الكعبة فأذن، فقال خالد بن أَسِيد: ما هذا الصوت؟ قالوا: بلال بن رباح، قال: عبد أبي بكر الحبشي؟ قالوا: نعم، قال: أين؟ (قالوا) (٦٩): على ظهر الكعبة، قال: على (مرقبة) (٧٠) بني أبي طلحة؟ قالوا: نعم، قال: ما يقول؟ قالوا: (يقول) (٧١): أشهد أن لا إله إلا اللَّه، وأشهد أن محمدا رسول اللَّه، قال: لقد أكرم اللَّه أبا خالد عن أن يسمع هذا الصوت -يعني أباه، وكان ممن قتل (يوم) (٧٢) (بدر) (٧٣) في المشركين. وخرج رسول اللَّه ﷺ إلى حنين، وجمعت له هوازن (بحنين) (٧٤) فاقتتلوا، فهزم أصحاب رسول اللَّه ﷺ، قال اللَّه (٧٥): ﴿وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا﴾ [التوبة: ٢٥] الآية ثم أنزل اللَّه سكينته على رسوله وعلى المؤمنين، فنزل رسول اللَّه ﷺ (٧٦) عن دابته (فقال) (٧٧): "اللهم إنك إن شئت لم تعبد بعد اليوم، شاهت الوجوه"، ثم رماهم (بحصباء) (٧٨) كانت في يده فولوا مدبرين. ⦗٣٥⦘ فأخذ رسول اللَّه ﷺ السبي والأموال فقال لهم: "إن شئتم فالفداء وإن شئتم فالسبي"، قالوا: لن نؤثر اليوم على الحسب شيئًا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إذا خرجت فاسألوني فإني سأعطيكم الذي لي، ولن يتعذر عليَّ أحد من المسلمين"، فلما خرج رسول اللَّه ﷺ (صاحوا) (٧٩) إليه فقال: "أما الذي لي فقد أعطيتكموه"، وقال المسلمون مثل ذلك، إلا عيينة بن حصن بن حذيفة بن بدر فإنه قال: أما الذي لي فإني لا أعطيه، قال: " (أنت) (٨٠) على حقك من ذلك"، قال: فصارت له يومئذ عجوز عوراء. ثم حاصر رسول اللَّه ﷺ أهل الطائف قريبًا من شهر، فقال عمر بن الخطاب: أي رسول اللَّه ﷺ (٨١)! دعني (فأدخل) (٨٢) عليهم فأدعوهم إلى اللَّه، قال: "إنهم إذن قاتلوك"، فدخل عليهم عروة فدعاهم إلى اللَّه فرماه رجل من بني مالك بسهم فقتله، فقال رسول اللَّه ﷺ: "مثله في (قومه) (٨٣) (مثل) (٨٤) صاحب ياسين"، وقال رسول اللَّه: ["خذوا مواشيهم وضيقوا عليهم". ثم أقبل رسول اللَّه ﷺ] (٨٥) راجعا حتى إذا كان بنخلة جعل الناس يسألونه (٨٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سلمہ اور یحییٰ بن عبد الرحمان بن حاطب دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکین (مکہ) کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ تھا۔ اور بنو کعب بنو بکر کے درمیان مکہ میں لڑائی ہوگئی۔ بنی کعب کی طرف سے ایک فریادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ ع اے خدا ! میں محمد کو اپنے اور اس کے آباء کی پرانی قسم دیتا ہوں۔ کہ تم مدد کرو۔ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ سخت مدد اور اللہ کے بندوں کو بلاؤ وہ مدد کے لئے آئیں گے۔ ٢۔ پس ایک بادل گزرا اور وہ کڑکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لئے کھڑک رہا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میرا سامان تیار کرو۔ اور کسی کو یہ بات نہ بتانا۔ پس (اسی دوران) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابوبکر تشریف لائے اور انہوں نے امی عائشہ رضی اللہ عنہا کی حالت کو متغیر پایا تو انہوں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامان تیار کروں۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا۔ کہاں کے لئے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ مکہ کے لئے ۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ بخدا ! ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ ختم تو نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ان لوگوں نے پہلے غدر کیا ہے۔ ٣۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستہ بند کرنے کا حکم دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر مسلمان نکل پڑے اور اہل مکہ کو یوں گھیر لیا کہ ان کو کوئی خبر نہ مل سکی۔ ابو سفیان نے حکیم بن حزام سے کہا۔ اے حکیم ! بخدا ! ہم لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے اور ہم ڈھک چکے ہیں۔ کیا تم اس کام کے لئے تیار ہو۔ کہ ہم یہاں سے مرالظہران تک سوار ہو کر (حالات) دیکھیں۔ شاید ہمیں کوئی خبر مل جائے۔ قبیلہ خزاعہ کے بدیل بن ورقاء کعبی نے کہا۔ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔ ابو سفیان اور حکم نے کہا۔ اگر تم چاہو تو چل پڑو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ سوار ہو کر جب مرالظہران کی پہاڑی کے قریب پہنچے۔ اور گاٹی پر چڑھ گئے۔ ٤۔ پس جب یہ پیلو کے درخت سے آگے گزرے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہرہ داروں نے … انصاری صحابہ کی ایک جماعت نے پکڑ لیا۔ اس رات حضرت عمر بن خطاب پہرہ داروں پر ذمہ دار تھے۔ پہرہ دار صحابہ ان کو … ابو سفیان وغیرہ کو لے کر حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آ کر کہنے لگے۔ ہم آپ کے پاس اہل مکہ میں سے چند لوگ پکڑ کر لائے ہیں۔ حضرت عمر… انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور … فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم میرے پاس ابو سفیان کو لے آتے تو بھی کچھ زیادہ نہ ہوتا۔ پہرہ دار صحابہ نے کہا : خدا کی قسم ! ہم آپ کے پاس ابو سفیان ہی کو لائے ہیں۔ (اس پر) حضرت عمر نے فرمایا : اس کو بند کرلو۔ صحابہ نے ابو سفیان کو بند کرلیا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر حضرت عمر ابو سفیان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابو سفیان سے کہا گیا۔ بیعت (اسلام) کرلو۔ ابو سفیان نے کہا … میں اس وقت یہی صورت یا اس سے بھی بدتر صورت ہی موجود پاتا ہوں۔ پھر اس نے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) بیعت کرلی۔ پھر حکیم بن حزام سے کہا گیا۔ تم (بھی) بیعت کرلو۔ اس نے کہا : میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ لیکن میں کھڑا ہی رہوں گا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ہماری طرف سے بھی کھڑے رہنے کو قبول کرو۔ ٥۔ پس جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ابو سفیان ایک ایسا آدمی ہے جو شہرت کو پسند کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے سوائے ابن خطل ، مقیس بن صبابہ اللیثی، عبد اللہ بن سعد بن سرح اور دو باندیاں۔ اگر تم ان (مستثنیٰ ) لوگوں کو کعبہ کے غلافوں میں بھی چمٹا ہوا پاؤ تو بھی ان کو قتل کر ڈالو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اگر آپ ابو سفیان کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو راستہ میں روک دیا جائے اور پھر آپ لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیں۔ پس حضرت عباس نے ابوسفیان کو راستہ میں پالیا (اور روک دیا) حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا۔ کیا تم بیٹھو گے تاکہ کچھ نظارہ کرو ؟ ابو سفیان نے کہا : کیوں نہیں ! اور یہ (راستہ میں روکنا اور نظارہ دکھانا) سب کچھ صرف اس لئے تھا کہ ابو سفیان ان کی کثرت کو دیکھے اور ان کے بارے میں پوچھے۔ ٦۔ اسی دوران قبیلہ جہینہ کے لوگ گزرے

حواشی
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا)، وفي [هـ]: (حدثنا).
(٢) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [أ، ب]: (فقال: كان).
(٤) في [أ، ب]: (وإني).
(٥) في [أ، ب]: (الأتلبا).
(٦) في [ب]: (فانظر)، وفي [ع]: (فانصره).
(٧) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ]: (اهتدا).
(٨) في [أ، ب، ع]: (تعلمين).
(٩) في [أ، ب]: (قال).
(١٠) في [أ، ب]: (واللَّه).
(١١) في [ق، هـ]: (بالطريق).
(١٢) في [أ، ب]: (ما).
(١٣) في [ق، هـ]: (غمنا).
(١٤) في [جـ]: (وأغممنا).
(١٥) في [أ، ب]: (ممنع).
(١٦) في [أ، ب]: (لنا).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) في [أ، ب]: تكررت.
(١٩) في [ي]: (وجوعتها).
(٢٠) في [أ، ب]: تكررت.
(٢١) في [ع]: (لبني).
(٢٢) سقط من: [أ، ب].
(٢٣) سقط من: [س].
(٢٤) في [أ، ب]: (قالوا).
(٢٥) في [ب]: زيادة ﷺ.
(٢٦) في [س]: (والقنبتين).
(٢٧) في [أ، ب]: (فاقبلوهم).
(٢٨) في [هـ]: زيادة ﷺ.
(٢٩) في [س، ي]: (فجلس).
(٣٠) في [أ، ب]: (فأدرك).
(٣١) في [جـ]: زيادة (لكن).
(٣٢) في [ع]: (يكره).
(٣٣) سقط من: [ع].
(٣٤) في [ع]: (فيرى).
(٣٥) أي: يتكلم عنهم، وفي [ي]: (فيناولهم).
(٣٦) في [أ، ب]: (ابن).
(٣٧) في [أ، ب]: مكرر ما بين المعكوفين.
(٣٨) سقط من: [جـ].
(٣٩) في [أ، ب]: (ما كتب).
(٤٠) في [ع]: (فمر).
(٤١) سقط من: [جـ].
(٤٢) في [جـ، ع، ي]: زيادة (وأصحابه).
(٤٣) في [ب]: (فقال).
(٤٤) في [أ، ب]: (وكان).
(٤٥) سقط من: [أ، ب].
(٤٦) في [أ، ب]: (قيل).
(٤٧) في [أ، ب]: زيادة (أهل).
(٤٨) في [ع]: (أنت)، وفي [س، ط، هـ]: (إني).
(٤٩) سقط من: [أ، ب].
(٥٠) في [ع]: (من النهار ساعة).
(٥١) في [س، ي]: (جلها)، وفي [هـ]: (حشيشها).
(٥٢) في [ع]: (لاقطتها).
(٥٣) في [أ، ب]: (ثبا)، وفي [ط، هـ]: (شاه).
(٥٤) في [ح]: تكرر ما بين المعكوفين.
(٥٥) سقط من: [ع].
(٥٦) في [ي]: (لقيوننا وقبورنا).
(٥٧) سقط من: [س].
(٥٨) في [أ، ب]: (صبارة).
(٥٩) في [ق، هـ]: (فبادره)، وفي [ع]: (فتبادروه).
(٦٠) في [أ، ب]: (نمييله).
(٦١) في [أ، ب]: (أحدًا).
(٦٢) كذا في النسخ، وهو الموافق لما في الثقات ٣/ ٢٦٠، وأسد الغابة ٧/ ١٦٠، ولباب المنقول ص ٨٣، ونبه الحافظ إلى أن الصواب (سلافة)، كما في الإصابة ٧/ ٧٢٤، وانظر: الإصابة ٧/ ٧٠٢، وغوامض الأسماء المبهمة ١/ ٤٧٩، وتهذيب الكمال ١٩/ ٣٩٦، والسيرة الحلبية ٢/ ٤٩٨، ومغازي الواقدي ١/ ٢٠٢.
(٦٣) سقط من: [جـ].
(٦٤) سقط من: [ع].
(٦٥) في [ع]: (الناس).
(٦٦) في [أ، ب]: (قال).
(٦٧) سقط من: [ع].
(٦٨) في [أ، ب]: (لين).
(٦٩) في [جـ]: (قال).
(٧٠) في [أ، ب]: (مزقعة).
(٧١) في [أ، ب، ع]: (قال).
(٧٢) سقط من: [أ، ب].
(٧٣) في [أ، ب]: (ببدر).
(٧٤) في [أ، ب]: (وحنين).
(٧٥) في [ع]: زيادة (تعالى).
(٧٦) سقط من: [أ].
(٧٧) في [أ، ب]: (وقال).
(٧٨) في [أ، هـ]: (حصاء)، وفي [ب]: (حصى).
(٧٩) في [جـ]: (هاجوا).
(٨٠) في [هـ]: (فأنت).
(٨١) سقط من: [أ، ب].
(٨٢) في [ق، ع، هـ]: (أدخل).
(٨٣) في [ب]: (يومه).
(٨٤) في [ع]: (كمثل).
(٨٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ي].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39670
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب تابعيان، أخرج الأزرقي ٢/ ١٢٥ قطعة منه، وورد متصلًا من حديث أبي هريرة، أخرجه أبو يعلى (٥٩٥٤)، وابن أبي خيثمة في أخبار المكيين ص ٩٨ (٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39670، ترقيم محمد عوامة 38055)