٣٩٥٦١ - (حدثنا يزيد بن هارون) (١) قال: (أخبرنا) (٢) محمد بن عمرو قال: حدثني عاصم بن عمر بن قتادة قال: لما نام رسول اللَّه ﷺ (٣) حين أمسى (أتاه) (٤) ⦗٤٩١⦘ جبريل (أو قال) (٥) (ملك) (٦)، فقال: (ما) (٧) رجل من أمتك مات الليلة، استبشر بموته أهل السماء، (فقال) (٨): "لا، إلا أن يكون (سعدا) (٩) فإنه أمسى (دنفا) (١٠)، ما فعل سعد؟ " قالوا: يا رسول اللَّه قد قبض، وجاءه قومه فاحتملوه إلى دارهم، قال: فصلى رسول اللَّه ﷺ (الفجر) (١١) ثم خرج وخرج الناس، (فبت) (١٢) رسول اللَّه ﷺ الناس مشيا حتى إن (شسوع) (١٣) نعالهم (لتقطع) (١٤) من أرجلهم، وإن أرديتهم لتسقط عن (عواتقهم) (١٥)، فقال رجل: يا رسول اللَّه (بتت) (١٦) الناس فقال: "إني أخشى أن تسبقنا إليه الملائكة كما سبقتنا إلى حنظلة" (١٧).حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ جب رات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل آئے یا فرمایا : کوئی فرشتہ آیا اور پوچھا : آپ کی امت میں سے کون سا آدمی آج رات وفات پا گیا ہے۔ آسمان والوں کو اس کی موت پر خوشی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سعد کے ساتھ کیا ہوا ؟ صحابہ نے بتایا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ فوت ہوگیا ہے۔ اور ان کی قوم والے آئے تھے اور انہیں اپنے محلہ کی طرف لے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل نکلے اور لوگ بھی ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) چل نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو (تیز) چلا کر تھکا دیا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے تسمے ان کے پاؤں سے گرگئے اور ان کی چادریں ان کے کندھوں سے گرگئیں۔ ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے لوگوں کو (تیز) چلا کر تھکا دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں فرشتے سعد کی طرف ہم سے سبقت نہ کر جائیں جیسا کہ وہ حنظلہ کی طرف ہم سے سبقت کر گئے تھے۔ ٢۔ محمد کہتے ہیں مجھے اشعث بن اسحاق نے بتایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس پہنچے جبکہ انہیں غسل دیا جا رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھٹنے اکٹھے کرلیے اور فرمایا : ایک فرشتہ آیا ہے اور اس کے لئے بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی پس میں نے اس کے لئے جگہ چھوڑی ہے۔ حضرت سعد کی والدہ رو رہی تھیں اور شعر کہہ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تمام رونے والیاں کذب بیانی کرتی ہیں سوائے اُمِ سعد کے۔ ٣۔ محمد کہتے ہیں ہمارے ساتھیوں میں سے بعض لوگوں نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سعد کے جنازہ کے لئے نکلے تو منافقین میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ سعد کا تختہ کتنا ہلکا ہے ، یا کہا : سعد کا جنازہ کتنا ہلکا ہیـ؟ راوی کہتے ہیں : مجھے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ جس دن حضرت سعد فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحقیق ستر ہزار فرشتے اترے ہیں جو سعد کے جنازہ میں شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس دن سے پہلے (کبھی) زمین کو نہیں روندا تھا۔ ٤۔ محمد کہتے ہیں : پھر میں نے اسمعیل بن محمد بن سعد کو سنا … جبکہ وہ ہمارے پاس خیمہ میں داخل ہوئے اور ہم واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کو دفن کر رہے تھے … انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں وہ بات نہ بیان کروں جو میں نے اپنے شیوخ سے سُنی ہیَ ؟ میں نے اپنے شیوخ کو بادن کرتے سُنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی وفات کے دن ارشاد فرمایا : بلاشبہ ستر ہزار فرشتے سعد کے جنازہ میں آسمان سے اتر کر شریک ہوئے ہیں جنہوں نے اس دن سے پہلے زمین کو نہیں روندا تھا۔ ٥۔ محمد کہتے ہیں مجھے میرے والد نے بواسطہ اپنے والد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ مسلمانوں کو نبی کریم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو ساتھیوں (ابو بکر و عمر) یا ان میں سے ایک کے جانے کے بعد، حضرت سعد بن معاذ سے بڑھ کر کسی کی کمی کا شدت سے احساس نہیں ہوا۔ ٦۔ محمد کہتے ہیں : مجھے محمد بن منکدر نے محمد بن شرحبیل کے حوالہ سے بیان کیا کہ ایک شخص نے حضرت سعد کی قبر سے اس دن (دفن کے دن) ایک مٹھی مٹی لے لی اور پھر بعد میں اس کو کھولا تو وہ مشک تھی۔ ٧۔ محمد کہتے ہیں : اور مجھے واقد بن عمرو بن سعد نے (بھی) بیان کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ واقد، خوبصورت اور دراز قد لوگوں میں سے تھے … واقد کہتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کہتے ہیں : انہوں نے مجھ سے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے جواب دیا۔ میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں ۔ انس کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ سعد پر رحم کرے۔ تم تو بلاشبہ سعد کے مشابہ ہو۔ پھر انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ سعد پر رحم کرے ۔ (عام) لوگوں سے دراز قد اور خوبصورت تھے۔ انس کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اکیدر دومہ کی طرف ایک وفد بھیجا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک ریشمی جبہ بھیجا جس میں سونا، بُنا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جبہ کو زیب تن فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور پھر بیٹھ گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات نہیں کی۔ لوگوں نے اس جُبہ کو ہاتھ لگانا شروع کیا اور اس کو تعجب سے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا تم لوگ اس جبہ کو تعجب سے دیکھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے اس سے خوبصورت کپڑا نہیں دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ و