٣٩٥٦٠ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا يزيد بن هارون قال: ⦗٤٨٧⦘ (أخبرنا) (٢) محمد ابن عمرو عن أبيه عن جده عن عائشة قالت: خرجتُ يوم (الخندق) (٣) أقفو آثار الناس، فسمعت وئيد الأرض (ورائي) (٤) فالتفتُ فإذا أنا بسعد بن معاذ ومعه ابن أخيه الحارث بن أوس، يحمل مجنه، فجلست إلى الأرض. قالت: فمر سعد وعليه (درع) (٥) قد خرجت منها أطرافه، فأنا أتخوف على أطراف سعد، قالت: وكان من أعظم الناس وأطولهم، قالت: فمر يرتجز وهو يقول: لَبّثَ قَلِيلا يُدْرِكْ الهَيْجَا حَمَلْ … مَا أَحْسَنَ المَوْتَ إِذَا حَانَ الأَجَلْ (قالت) (٦): فقمت فاقتحمت حديقة، (فإذا) (٧) فيها نفر من المسلمين فيهم عمر بن الخطاب وفيهم (رجل) (٨) عليه تسبغة له -تعني: المغفر-، قال: فقال عمر: ويحك ما جاء بك؟ ويحك ما جاء بك؟ واللَّه إنك (لجريئة) (٩) ما يؤمنك أن يكون (تحوز) (١٠) وبلاء، قالت: فما زال يلومني حتى تمنيت أن الأرض انشقت فدخلت فيها، (قال) (١١): فرفع الرجل (التسبغة) (١٢) عن وجهه فإذا طلحة بن ⦗٤٨٨⦘ عبيد اللَّه، قال: فقال: يا عمر، ويحك قد أكثرت (منذ) (١٣) اليوم، وأين التحوز أو الفرار (إلا) (١٤) إلى اللَّه. (قالت) (١٥): ويرمي سعدا رجلٌ من المشركين من قريش يقال له: حبان بن العرقة بسهم، فقال: خذها وأنا ابن العرقة، فأصاب أكحله فقطعه فدعا اللَّه فقال: اللهم لا تمتني حتى تقر عيني من قريظة -وكانوا حلفاءه ومواليه في الجاهلية- فرقأ كلمه، وبعث اللَّه الربح على المشركين ﴿(وَكَفَى) (١٦) اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [الأحزاب: ٢٥]، فلحق أبو سفيان بتهامة، ولحق عيينة بن بدر بن (حصن) (١٧) ومن معه بنجد، ورجعت بنو قريظة فتحصنوا في صياصيهم. ورجع رسول اللَّه ﷺ إلى المدينة فأمر بقبة فضربت على سعد في المسجد ووضع (السلاح) (١٨)، قالت: فأتاه جبريل فقال: أقد وضعت السلاح، واللَّه ما وضعت الملائكة السلاح، فأخرج إلى بني قريظة فقاتلهم. فأمر رسول اللَّه ﷺ بالرحيل ولبس لامته، فخرج فمر على بني غَنْم، وكانوا جيران المسجد، (فقال) (١٩): "من مر بكم؟ " فقالوا: مر بنا دحية الكلبي، وكان دحية تشبه لحيته (وسنة) (٢٠) وجهه بجبريل. ⦗٤٨٩⦘ فأتاهم رسول اللَّه ﷺ فحاصرهم خمسة وعشرين يوما، فلما اشتد حصرهم واشتد البلاء عليهم قيل لهم: انزلوا على حكم رسول اللَّه ﷺ، فاستشاروا أبا لبابة فأشار (إليهم) (٢١) بيده أنه الذبح، فقالوا: ننزل على حكم ابن معاذ، فقال رسول اللَّه ﷺ: "انزلوا على حكم سعد بن معاذ"، فنزلوا وبعث رسول اللَّه ﷺ إلى سعد. (فحمل) (٢٢) على حمار له إكاف من ليف، وحف به قومه، فجعلوا يقولون: يا أبا عمرو، حلفاؤك ومواليك وأهل النكاية ومن قد علمت، لا يرجع إليهم قولا حتى إذا دنا من دارهم التفت إلى قومه فقال: قد (أنى) (٢٣) لسعد أن لا (يبالي) (٢٤) في اللَّه لومة لائم. فلما طلع على رسول اللَّه ﷺ، قال أبو سعيد: قال رسول اللَّه ﷺ: "قوموا إلى سيدكم فأنزلوه"، قال عمر: سيدنا اللَّه، قال: "أنزلوه"، فأنزلوه قال له رسول اللَّه ﷺ: "احكم فيهم"، (قال: (فإني) (٢٥) أحكم فيهم أن) (٢٦) تقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم وتقسم أموالهم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لقد حكمت فيهم بحكم اللَّه وحكم رسوله". قال: ثم دعا (اللَّه) (٢٧) سعدٌ (فقال) (٢٨): اللهم إن كنت أبقيت على نبيك ⦗٤٩٠⦘ من (حرب) (٢٩) قريش شيئا فأبقني لها، وأن كانت قطعت الحرب بينه وبينهم فاقبضني إليك، (قال) (٣٠): فانفجر كلمه وكان قد برأ حتى ما بقي منه إلا مثل الخرص. قالت: فرجع رسول اللَّه ﷺ، ورجع سعد إلى قبته التي كان ضرب عليه رسول اللَّه ﷺ، قالت: فحضره رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وعمر، قالت: فوالذي نفسي بيده إني لأعرف بكاء أبي بكر من بكاء عمر وأنا في حجرتي، وكانوا كما قال: اللَّه (٣١) ﴿رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ [الفتح: ٢٩]. قال علقمة: فقلت: أي أمه (فكيف) (٣٢) كان رسول اللَّه ﷺ يصنع؟ قالت: كانت عينه لا تدمع على أحد، ولكنه كان إذا وجد فإنما هو آخذ بلحيته (٣٣).حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں خندق کے دن، لوگوں کے آثار قدم کی پیروی کرتے ہوئے باہر نکلی۔ پس میں نے اپنے پیچھے لوگوں کی آہٹ سُنی۔ میں نے توجہ کی تو وہ سعد بن عبادہ تھے اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس تھے۔ جنہوں نے اپنی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی۔ پس میں زمین پر بیٹھ گئی ۔ فرماتی ہیں : پس حضرت سعد گزر گئے اور انہوں نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ اور اس کے کنارے باہر نکلے ہوئے تھے۔ اور مجھے حضرت سعد کے کناروں سے خوف آ رہا تھا۔ فرماتی ہیں : یہ صاحب لوگوں میں سے بڑے جثہ والے اور لمبے تھے۔ فرماتی ہیں : پھر وہ رجز پڑھتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے گزر گئے۔ ” تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ جنگ کو زور پکڑنے دو ۔ جب وقت مقرر آجائے تو موت کتنی اچھی ہوتی ہے۔ “ ٢۔ فرماتی ہیں ۔ پھر میں کھڑی ہوئی اور ایک باغیچہ میں گھس گئی تو وہاں مسلمانوں کے چند افراد تھے۔ جن میں عمر بن خطاب بھی تھے اور ان میں ایک آدمی وہ بھی تھا جس پر خود تھی ۔ راوی کہتے ہیں… حضرت عمر نے کہا : عجیب بات ہے ! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے ؟ عجیب بات ہے ! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے ؟ بخدا ! تم بہت جری ہو۔ تمہیں کس چیز نے فرار اور آزمائش سے مامون کردیا ہے ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : حضرت عمر مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ زمین شق ہوجائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں۔ فرماتی ہیں۔ پھر (دوسرے) آدمی نے اپنے چہرے سے خود اتاری تو وہ طلحہ بن عبید اللہ تھے۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے کہا : اے عمر ! تم پر افسوس ہے آج تم نے بہت زیادہ ملامت کی ہے۔ فرار اور آزمائش اللہ کے سوا کس کی طرف ہوسکتا ہے۔ ٣۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ مشرکین قریش میں سے ایک آدمی نے، جس کو حبان بن العرقۃ کہا جاتا تھا۔ حضرت سعد کو تیر مارا اور کہا۔ اس کو لے لو۔ میں ابن العرقۃ ہوں۔ وہ تیر حضرت سعد کی بازو کی رگ میں لگا اور اس نے وہ رگ کاٹ دی۔ سعد نے اللہ سے دعا کی ۔ اے اللہ ! تو مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ تو بنو قریظہ سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے۔ یہ لوگ سعد کے جاہلیت میں حلیف اور ساتھی تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر ان کے زخم کا خون بند ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ہوا بھیج دی۔ وکفی اللّٰہ المؤمنین القتال وکان اللّٰہ قویاً عزیزاً ۔ پس ابو سفیان تہامہ کے علاقہ کے ساتھ جا ملا اور عیینہ بن بدر بن حصن اور اس کے ساتھی نجد کے علاقہ کے ساتھ جا ملے اور بنو قریظہ واپس ہوگئے اور اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی طرف واپس تشریف لے آئے اور حکم دیا تو حضرت سعد کے لئے مسجد میں خیمہ لگایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلحہ وغیرہ رکھ دیا۔ ٤۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور عرض کیا۔ کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے ؟ بخدا ! فرشتوں نے تو اسلحہ نہیں اتارا۔ پس آپ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان سے قتال کیجئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوچ کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سامانِ حضر زیب تن فرمایا اور نکل پڑے ۔ اور (جب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو غنم کے پاس سے گزرے… یہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے … تو پوچھا : کون تمہارے پاس سے گزرا ہے ؟ انہوں نے جواباً عرض کیا۔ ہمارے پاس سے حضرت دحیہ کلبی گزرے ہیں۔ حضرت دحیہ کی داڑھی اور چہرے کی شکل حضرت جبرائیل سے مشابہ تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، بنو قریظہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ پس جب بنو قریظہ کا محاصرہ شدید ہوگیا اور ان پر مصیبت سخت ہوگئی تو انہیں کہا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر تسلیم ہو جاؤ۔ انہوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے انہیں یہ اشارہ کیا کہ فیصلہ تو ذبح کا ہے۔ بنو قریظہ نے کہا۔ ہم ابن معاذ کے فیصلہ پر اترتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سعد بن معاذ کے فیصلہ پر (ہی) اُتر آؤ۔ پس وہ لوگ اتر آئے۔ ٥۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا اور انہیں گدھے پر سوار کیا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان تھا اور ان کی قوم نے انہیں گھیر لیا۔ اور یہ کہنے لگے۔ اے ابو عمرو ! (یہ لوگ) تیرے حلیف اور تیرے ساتھی ہیں۔ اور تیری پہچان کے لوگ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ حضرت سعد نے ان کو کچھ جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ جب سعد ان کے گھروں کے پاس پہنچے تو فرمایا : اب سعد کے لئے وہ وقت آپہنچا ہے کہ سعد ، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ ٦۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوئے ابو سعید کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اس ک