حدیث نمبر: 39522
٣٩٥٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن الأسود) (١) (بن) (٢) قيس عن (نُبيح) (٣) عن جابر قال: قال لي أبي عبد اللَّه: أي ابني لولا (نسيات) (٤) أخلفهن من بعدي من أخوات وبنات لأحببت أن أقدمك أمامي، ولكن كن في نظاري المدينة قال: فلم ألبث أن جاءت بهما عمتي قتيلين -يعني: أباه وعمه-، قد عرضتهما على بعير (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد عبد اللہ نے کہا۔ اے میرے بیٹے ! اگر یہ چھوٹی بہنیں اور بیٹیاں، جنہیں میں پیچھے چھوڑ رہا ہوں، نہ ہوتی تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ تجھے اپنے سے آگے کرتا۔ لیکن (اب) تم مدینہ میں میرے نظیر بن کر رہو ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جلد ہی میری پھوپھی ان دونوں کو … ان کے والد اور چچا کو … مقتول حالت میں لے آئی۔ ان دونوں کو اس نے اونٹ پر ڈالا ہوا تھا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ]: (عن).
(٣) في [س]: (بلبح).
(٤) في [جـ]: (نساء)، وفي [أ، ق، هـ]: (بنيات).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39522
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39522، ترقيم محمد عوامة 37914)