حدیث نمبر: 39459
٣٩٤٥٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (أبي) (١) (و) (٢) إسرائيل عن أبي إسحاق ⦗٤٤٨⦘ عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: انتهيت إلى أبي جهل يوم بدر وقد ضربت رجله وهو صريع، وهو يذب الناس عنه بسيفه، فقلت: الحمد للَّه الذي أخزاك يا عدو اللَّه، قال: هل هو إلا رجل قتله قومه، قال: فجعلت أتناوله بسيف لي غير طائل فأصبت يده فندر سيفه فأخذته فضربته به حتى برد ثم خرجت حتى أتيت النبي ﷺ كأنما أُقَلُّ من الأرض -يعني (من السرعة) (٣)، (فأخبرته) (٤) فقال: "اللَّه الذي لا إله إلا هو"، (فرددها) (٥) علي ثلاثًا، فخرج يمشي معي حتى قام عليه فقال: "الحمد للَّه الذي أخزاك -يا عدو اللَّه- هذا كان فرعون هذه الأمة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : میں بدر والے دن ابو جہل کے پاس پہنچا جبکہ اس کے پاؤں پر ضرب لگی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ حالت میں تھا اور وہ خود سے لوگوں کو اپنی تلوار کے ذریعہ سے ہٹا رہا تھا۔ میں نے کہا۔ اے دشمن خدا ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا ہے۔ کہا : کہ وہ ایسا شخص ہے جس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہے۔ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پس میں نے اس کو اپنی چھوٹی سی تلوار سے لینا شروع کیا اور میں اس کے ہاتھ تک پہنچ گیا تو اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے وہ تلوار پکڑ لی اور ابو جہل کو اسی تلوار کے ذریعہ سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (اس طرح) حاضر ہو اگویا کہ مجھے زمین سے اٹھایا گیا ہے (یعنی تیزی سے گیا) اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبردی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا واقعی ہی ؟ الذی لا الہ الا ھو ؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر تین مرتبہ دہرائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہمراہ چلتے ہوئے باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ اے دشمن خدا ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا۔ یہ شخص اس امت کا فرعون تھا۔ حضرت وکیع کہتے ہیں۔ میرے والد نے بواسطہ ابو اسحاق از ابو عبیدہ یہ اضافہ کیا ہے کہ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی تلوار عطا فرمائی۔

حواشی
(١) في [ق]: (أبو).
(٢) في [أ]: زيادة (ابن).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ب]: (أخذته).
(٥) في [س]: (فردوه)، وفي [أ]: (فوقها).
(٦) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، أخرجه أحمد (٤٢٤٦)، وأبو داود (٣٧٢٢)، وأبو يعلى (٥٢٣١)، والشاشي (٩٣٢)، والطبراني (٨٤٦٨)، والبيهقي ٩/ ٦٢، والطيالسي (٣٢٨)، والبزار (١٧٧٥/ كشف).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39459
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39459، ترقيم محمد عوامة 37852)