مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في الحبشة وأمر النجاشي وقصة إسلامه باب: حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
٣٩٤٠٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: لما قدم جعفر من أرض الحبشة لقي عمرُ بن الخطاب أسماءَ بنت عميس فقال لها: سبقنا (كم) (١) بالهجرة، ونحن أفضل منكم، قالت: لا أرجع حتى آتي رسول اللَّه ﷺ، (قال) (٢): فدخلت عليه فقالت: يا رسول اللَّه (٣) لقيت عمر ⦗٤٢١⦘ فزعم أنه أفضل منا وأنهم سبقونا بالهجرة، قالت: قال: نبي اللَّه ﵊ (٤): "بل أنتم هاجرتم مرتين" (٥).حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت جعفر ارض حبشہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمر بن خطاب ، اسماء بنت عمیس سے ملے تو اس سے کہا۔ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور ہم تم سے افضل ہیں۔ حضرت اسمائ نے فرمایا : میں تب تک واپس نہیں جاؤں گی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ مل لوں۔ راوی کہتے ہیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری حضرت عمر سے ملاقات ہوئی ہے تو ان کا گمان یہ ہے کہ وہ ہم سے افضل ہیں۔ اور یہ کہ انہوں نے ہم سے پہلے ہجرت کی ہے۔ فرماتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (نہیں) بلکہ تم لوگوں نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں۔ سعید بن ابی بردہ نے مجھے بیان کیا کہ حضرت اسمائ نے اس دن حضرت عمر سے کہا۔ ایسا نہیں ہے (کیونکہ) ہم لوگ قابل نفرت اور دور کی زمین میں بالکل الگ کئے ہوئے تھے جبکہ تم لوگ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم میں سے ناواقف کو وعظ کہتے اور تمہارے بھوکے کو کھانا کھلاتے۔