حدیث نمبر: 39372
٣٩٣٧٢ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن (أن) (١) سراقة بن مالك (المدلجي) (٢) حدثهم أن قريشا جعلت في رسول اللَّه ﷺ وأبي بكر أربعين أوقية، قال: فبينما أنا جالس إذ جاءني رجل فقال: إن الرجلين اللذين جعلت ((قريش) (٣) فيهما) (٤) ما جعلتْ قريبٌ منك؛ بمكان كذا وكذا، فأتيت فرسي وهو في (الرعي) (٥) فنفرت به ثم أخذت رمحي، قال: فركبته، قال: فجعلت أجر الرمح مخافة أن يشركني فيهما أهل الماء قال: فلما رأيتهما قال أبو بكر: هذا باغ ⦗٤٠٤⦘ يبغينا، فالتفت إلي النبي ﷺ فقال: "اللهم اكفناه بما شئت"، قال: قال (فوحل) (٦) فرسي وإني لفي جلد من الأرض، فوقعت على حجر (فانقلبت) (٧)، فقلت: ادع الذي فعل بفرسي ما أرى أن (يخلصه) (٨)، وعاهده أن لا يعصيه، قال: فدعا له، فخُلّص الفرس، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (أواهبه) (٩) أنت لي؟ " فقلت: نعم، فقال: (فهاهنا) (١٠) قال (١١): (فعمّ) (١٢) عنا الناس، وأخذ رسول اللَّه ﷺ طريق الساحل مما يلي البحر، قال: فكنت أول النهار لهم طالبا وآخر النهار لهم مسلحة، وقال لي: "إذا استقررنا بالمدينة فإن رأيت أن تأتينا فأتنا"، قال: فلما قدم المدينة وظهر على أهل بدر وأحد وأسلم الناس ومن حولهم، قال (سراقة) (١٣): بلغني (أنه) (١٤) يريد أن يبعث خالد بن الوليد إلى بني مدلج، قال: فأتيته فقلت له: أنشدك النعمة، فقال القوم: مه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "دعوه"، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما تريد؟ " فقلت: بلغني أنك تريد أن تبعث خالد بن الوليد إلى قومي، فأنا أحب أن توادعهم، فإن أسلم قومهم أسلموا معهم، وإن لم يسلموا لم تخشن صدور قومهم عليهم، فأخذ رسول اللَّه ﷺ بيد خالد بن الوليد فقال له: "اذهب معه فاصنع ما أراد"، فذهب إلى بني مدلج، فأخذوا عليهم أن لا يعينوا على رسول اللَّه ﷺ، فإن أسلمت قريش أسلموا معهم فأنزل اللَّه: ﴿وَدُّوا ⦗٤٠٥⦘ لَوْ تَكْفُرُونَ (كَمَا كَفَرُوا) (١٥)﴾ حتى بلغ: ﴿إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَنْ يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ (١٦) وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ﴾ [النساء: ٨٩، ٩٠] (١٧).
مولانا محمد اویس سرور

حسن سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک المدلجی نے لوگوں کو بیان کیا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے متعلق چالیس اوقیہ مقرر فرمائی ۔ کہتے ہیں ۔ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا۔ وہ آدمی جن کے بارے میں قریش نے اپنا اعلانِ (انعام) کیا ہے ۔ تمہارے قریب ہیں۔ فلاں جگہ پر، کہتے ہیں ۔ میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور گھوڑا چَر رہا تھا۔ میں اس کو لے کر دوڑا پھر میں نے اپنے نیزے کو پکڑا۔ کہتے ہیں : میں اس پر سوار ہوگیا۔ اور میں نے اس ڈر سے نیزے کو کھینچنا شروع کیا کہ کہیں ان دونوں کے بارے میں میرے ساتھ کوئی شریک نہ ہوجائے۔ فرماتے ہیں۔ پس جب میں نے ان دونوں کو دیکھ لیا تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : یہ متلاشی ہے جو ہیں ہ تلاش کر رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے اللہ ! جس طرح تو چاہتا ہے اس کو ہمارے طرف سے کافی ہوجا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ میرا گھوڑا زمین میں دھنس گیا حالانکہ میں سخت زمین میں تھا۔ اور میں ایک پتھر پر گرا اور پلٹی کھائی تو میں نے عرض کیا۔ آپ اس ہستی سے دعا کریں جس نے میرے گھوڑے کے ساتھ جو کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔ کہ وہ اس کو یہاں سے نکال دے۔ کہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراقہ کے لئے دُعا کی تو گھوڑا باہر آگیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ مجھے ہدیہ کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس یہاں ہی رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں سے ہماری حالت کو مخفی رکھنا۔ ٢۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمندر کے ساتھ ساحل کا راستہ پکڑ لیا۔ کہتے ہیں ۔ میں دن کے آغاز میں ان کا متلاشی تھا اور دن کے آخر میں ان کا محافظ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا : جب ہم مدینہ کو اپنا سفر بنالیں تو اگر تمہاری رائے ہو تو ہمارے پاس آنا۔ سراقہ کہتے ہیں ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور اہل بدر، اہل احد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ حاصل ہوا۔ لوگ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد والوں نے اسلام قبول کرلیا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی مدلج کی طرف حضرت خالد بن الولید کو بھیجنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ میں آپ کو انعام (کا وعدہ) یاد دلاتا ہوں لوگ کہنے لگے۔ رک جاؤ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف خالد بن ولید کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ آپ ان کے ساتھ عہد و پیمان کرلیں۔ پھر اگر ان کی قوم ایمان لے آئی تو وہ بھی ایمان لے آئیں گے۔ اور اگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تو پھر ان پر ان کی قوم کے دل سخت نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا : اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتا ہے وہی معاملہ کرو۔ ٣۔ پس حضرت خالد بن ولید بنی مدلج کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے یہ پیمان لیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف مدد نہیں کریں گے۔ اگر قریش اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں گے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں۔ { وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُوا …حَتَّی بَلَغَ … إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ ، أَوْ جَاؤُوکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوکُمْ ، أَوْ یُقَاتِلُوا قَوْمَہُمْ ، وَلَوْ شَائَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوکُمْ }۔ حسن فرماتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے بارے میں حصرت صدورھم کہا گیا وہ بنو مدلج ہیں۔ جو شخص بنی مدلج کے پاس پہنچ گیا سو وہ بھی ان کے جیسے معاہدہ میں ہوگا۔

حواشی
(١) في [أ، س، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [ي]: (المدلحي).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [أ، ب]: (فيهما قريش).
(٥) في [هـ]: (الوعي).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (فوجل)، وانظر: المطالب العالية (٤٢٤٢)، والنهاية ٥/ ١٦١.
(٧) في [أ، ط]: (فانفلت)، وفى [ح، هـ]: (فانقلب).
(٨) في [أ]: (يخلصها).
(٩) في [أ]: (أواهبنه).
(١٠) في [س]: (هاهنا)، وفي [أ]: (هذا).
(١١) في [ي]: زيادة (نعم).
(١٢) في [ط، هـ]: (فعمى).
(١٣) في [ي]: (مؤلفه).
(١٤) في [أ، ب]: (أنك).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [أ، ب، س، ي]: زيادة ﴿كُلَّ مَا رُدُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا فِيهَا﴾.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39372
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ علي بن زيد ضعيف، وأهل الحديث على أن الحسن لم يسمع من سراقة، وأخرجه البخاري (٣٩٠٦)، وأحمد (١٧٥٩١) من حديث عبد الرحمن بن مالك المدلجي عن أبيه عن أخيه سراقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39372، ترقيم محمد عوامة 37767)