مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
حديث المعراج حين أسري بالنبي ﷺ باب: معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
٣٩٣٣٤ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد في جدعان عن أبي الصلت عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (رأيت) (١) ليلة أسري بي لما انتهينا إلى السماء السابعة فنظرت فوقي، فإذا أنا برعد وبرق وصواعق، قال: وأتيت على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء أكلة الربا، فلما نزلت إلى السماء الدنيا نظرت أسفل (شيء) (٢) فإذا (برهج) (٣) ودخان وأصوات، فقلت: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذه الشياطين (يَحرِفون) (٤) على أعين بني آدم، (لا يتفكروا) (٥) في ملكوت السماوات والأرض، ولولا (ذاك) (٦) لرأوا العجائب" (٧).حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے سیر کروائی گئی ۔ میں نے دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر کو نظر اٹھائی تو مجھے گرج، بجلی اور کڑک دکھائی دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ایک گروہ کے پاس آیا ان کے پیٹ گردنوں کی طرح تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرائیل نے کہا : یہ سود خور لوگ ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو میں نے نیچے دیکھا۔ مجھے گرد، دھواں اور آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پوچھاـ: اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا : یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں کو فریب دیتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں میں تفکر نہیں کرتے۔ اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو بنی آدم کو عجائبات دکھائی دیتے۔