مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
(وذكروا) أن أبا حنيفة قال: هو أسوة الغرماء باب: جو شخص اپنا سامان کسی مفلس کے پاس پائے (تو …) ؟
حدیث نمبر: 39272
٣٩٢٧٢ - حدثنا إسماعيل (١) عن عبد الرحمن بن إسحاق عن أبي عبيدة بن محمد بن عمار عن (الوليد) (٢) بن أبي الوليد عن عروة بن الزبير قال: قال زيد بن ⦗٣٣٧⦘ ثابت: يغفر اللَّه لرافع بن خديج إنما أتاه رجلان قد اقتتلا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن كان هذا شأنكم فلا تكروا المزارع" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت نے فرمایا : اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج کی مغفرت فرمائے۔ ان کے پاس دو آدمی حاضر ہوئے جنہوں نے باہمی قتال کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اگر تمہارا یہ معاملہ ہے تو تم مزارع کو کرایہ پر (زمین) مت دو ۔
حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (ابن علية).
(٢) في [ب]: (وليد).