٣٩٢٧٠ - حدثنا أبو أسامة حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ عامل أهل خيبر بشطر ما خرج من زرع أو ثمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ کھیتی یا پھل میں سے نکلے ہوئے کے ایک حصہ پر معاملہ فرمایا۔
٣٩٢٧١ - حدثنابن أبي زائدة عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ عامل أهل خيبر (بالشطر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر کو ایک حصہ پر عامل بنایا۔
٣٩٢٧٢ - حدثنا إسماعيل (١) عن عبد الرحمن بن إسحاق عن أبي عبيدة بن محمد بن عمار عن (الوليد) (٢) بن أبي الوليد عن عروة بن الزبير قال: قال زيد بن ⦗٣٣٧⦘ ثابت: يغفر اللَّه لرافع بن خديج إنما أتاه رجلان قد اقتتلا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن كان هذا شأنكم فلا تكروا المزارع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت نے فرمایا : اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج کی مغفرت فرمائے۔ ان کے پاس دو آدمی حاضر ہوئے جنہوں نے باہمی قتال کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اگر تمہارا یہ معاملہ ہے تو تم مزارع کو کرایہ پر (زمین) مت دو ۔
٣٩٢٧٣ - حدثنا شريك عن (١) (إبراهيم) (٢) بن (المهاجر) (٣) عن موسى بن طلحة قال: كلا جاري قد رأيته يعطي أرضه بالثلث والربع: عبد اللَّه وسعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے دونوں پڑوسیوں (عبد اللہ اور سعد ) کو دیکھا کہ وہ اپنی زمین تہائی اور ربع پر (مزارعت کے لئے) دیتے تھے۔
٣٩٢٧٤ - حدثنا فضيل بن عياض عن ليث عن طاوس قال: قدم علينا معاذ ونحن نعطي أرضنا بالثلث والنصف، فلم يعب ذلك علينا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنی زمینوں کو ثلث اور نصف پر (مزارعت کے لئے) دیتے تھے۔ حضرت معاذ نے اس پر کوئی عیب نہیں لگایا۔
٣٩٢٧٥ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) سفيان عن الحارث بن حَصيرة الأزدي عن (صخر) (٢) بن وليد عن عمرو بن صُلَيع عن علي قال: لا بأس بالمزارعة بالنصف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نصف پر مزارعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : وہ اس کو مکروہ سمجھتے تھے۔