حدیث نمبر: 39039
٣٩٠٣٩ - حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير قال: حدثني (بُشَيْر) (١) بن يسار أنه سمع سهل بن أبي حثمة ورافع بن (٢) خديج يقولان: نهى رسول اللَّه ﷺ عن (المحاقلة) (٣) والمزابنة إلا أصحاب العرايا، فإنه قد أذن لهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن ابی خدیج فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا لیکن عرایا والوں کو رخصت دی تھی۔ (محاقلہ : کٹی ہوئی کھیتی کو لگی ہوئی کھیتی کا عوض بنانا) (مزابنہ : کٹے ہوئے پھل کو لگے ہوئے پھل کا عوض بنانا) ۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ درست نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (بشر).
(٢) في [أ، ط، هـ]: زيادة (أبي).
(٣) في [س]: (المحاطة)، وفي [أ]: (المحالقة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39039
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٨٤)، ومسلم (١٥٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39039، ترقيم محمد عوامة 37438)