٣٨٧٧٢ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي سنان قال: حدثني شيخ عن عمرو ابن مرة قال: أول من شَرّط الشُرَط عمرو بن العاص، فلما مرض مرضه الذي مات فيه أرسل إلى شرطه فقال: خذوا سلاحكم (وكراعكم) (١) وائتوني، فلما أتوه قال: إني إنما كنت أعدكم لمثل هذا اليوم، فهل تستطيعون أن تردوا عني شيئًا مما أنا فيه، فقالوا: سبحان اللَّه، تقول هذا وقد كان رسول اللَّه ﷺ يستشيرك ويؤمرك على الجيوش، (فقال) (٢): وما يدريكم لعل رسول اللَّه ﷺ كان يتألفني بذلك (٣).حضرت عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے پہرے داروں کی شرط حضرت عمرو بن عاص نے لگائی۔ جب وہ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے پہرے داروں کے لئے پیغام بھجوایا کہ اپنا اسلحہ اور حفاظتی سامان لے کر میرے پاس آجاؤ۔ جب وہ آگئے تو حضرت عمرو نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مجھ سے اس چیز کو دور کرسکو جس کا میں شکار ہونے لگا ہوں یعنی موت کا اور میں نے تمہیں اسی دن کے لئے تو مقرر کیا تھا۔ انہوں نے کہا سبحان اللہ ! آپ یہ بات فرما رہے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے مشورہ لیتے تھے اور آپ کو لشکروں کانگران بناتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم ؟ کیا پتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا دل رکھنے کے لئے ایسا کرتے ہوں۔