٣٨٧٥٥ - حدثنا جرير عن (الشيباني عن الشعبي) (١) قال: ساوم عمر (رجلًا) (٢) بفرس فركبه (يشوره) (٣) (فعطب) (٤) فقال للرجل: خذ فرسك، فقال الرجل: لا، قال عمر: اجعل بيني وبينك حكمًا، فقال الرجل: شريح، فتحاكما إليه فقال شريح: يا أمير المؤمنين خذ بما (ابتعت) (٥) أو رد كما أخذت، قال عمر: وهل القضاء إلا على هذا؟ فصيره إلى الكوفة، فبعثه قاضيًا، (قال) (٦): فإنه لأول يوم عرفه (٧).حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کے ساتھ گھوڑے کا بھاؤ تاؤ کیا۔ آپ اس گھوڑے کو آزمانے کے لئے گھوڑے پر سوار ہوئے تو گھوڑا ہلاک ہوگیا۔ آپ نے آدمی سے کہا اپنا گھوڑا سنبھال۔ اس نے کہا کہ یہ اب میرا نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اپنے اور میرے درمیان ثالث مقرر کرلے۔ آدمی نے کہا حضرت شریح کے پاس چلو۔ حضرت شریح نے فرمایا امیر المومنین ! جو آپ نے خریدا وہ لے لیں یا جس حال میں لیا تھا اسی حال میں واپس کردیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا فیصلہ یہی ہوگا ؟ ! پھر آپ نے انہیں کوفہ کا قاضی بنا کر بھیج دیا۔ یہ پہلا دن تھا جب سے انہیں پہچانا جانے لگا۔