حدیث نمبر: 38576
٣٨٥٧٦ - حدثنا الفضل حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "قد عرفت أول الناس بحر (البحائر) (١) رجل من بني مدلج كانت له (ناقتان) (٢) فجدع آذانهما وحرم (ألبانهما) (٣) وظهورهما، ولقد رأيته وإياهما (في النار) (٤) تخبطانه (بأخفافهما) (٥)، (وتقضمانه) (٦) بأفواههما، ولقد عرفت أول الناس (سيب) (٧) السوائب ونصب النصب وغير عهد إبراهيم: عمرو بن لحي، ولقد رأيته يجر قصبه في النار يؤذي أهل النار جر قصبه" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں جس نے سب سے پہلے بحیرہ جانور (بتوں کے نام پر چڑھاوے کے لئے مخصوص کیا جانے والا جانور) بنایا وہ بنو مدلج کا ایک آدمی تھا جس کی دو اونٹنیاں تھیں، اس نے ان دونوں کے کان کاٹے اور ان کے دودھ کو اور ان پر سواری کو حرام قرار دیا۔ میں اس شخص کو اور اس کی اونٹنیوں کو جہنم میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسے اپنے پاؤں سے کچل رہی ہیں اور اپنے منہ سے اسے کاٹ رہی ہیں۔ میں اس شخص کو بھی جانتا ہوں جس نے سائبہ جانور بنائے اور بتوں کے حصے مقرر کئے اور ابراہیم کی شریعت کو بدل دیا۔ وہ عمرو بن لحی تھا۔ میں اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جہنم میں اپنے بانس کو کھینچ رہا ہے اور اس کی وجہ سے اہل جہنم کو تکلیف ہورہی ہے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (العجائر).
(٢) في [أ، ب]: (ناقة).
(٣) في [هـ]: (ألبانها).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [جـ]: (بإخفاقه).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (يعظانه)، وفي [س]: (تعضان).
(٧) في [هـ]: (سبب).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38576
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ زيد بن أسلم تابعي، وهشام له أوهام، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ١/ ١٩٧، وابن جرير ٧/ ٨٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38576، ترقيم محمد عوامة 36980)