حدیث نمبر: 38524
٣٨٥٢٤ - حدثنا وكيع عن أبي جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية عن غلام لسلمان ويقال: له سويد وأثنى عليه خيرًا قال: لما افتتح الناس المدائن، وخرجوا في طلب العدو، أصبت سلة، فقال سلمان: هل عندك طعام؟ فقلت: سلة أصبتها، فقال: هاتها، فإن كان (مالا) (١) رفعناه إلى هؤلاء، وإن كان طعامًا أكلناه، قال: ففتحناها فإذا أرغفةُ حواري (٢) وجبنة وسكين، فكان أول ما (رأت) (٣) العرب (الحواري) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ نے حضرت سلمان کے ایک غلام سے نقل کیا ہے کہ جب مسلمانوں نے مدائن کو فتح کرلیا اور دشمن کی تلاش میں نکلے تو مجھے ایک ٹوکری ملی۔ حضرت سلمان نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کھانا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے ایک ٹوکری ملی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے پاس لاؤ اگر تو اس میں مال ہے تو ہم مال غنیمت میں جمع کرادیں گے اور اگر اس میں کھانا ہے تو ہم کھا لیں گے۔ ہم نے اس ٹوکری کو کھولا تو اس میں سفید آٹے کی روٹیاں، مکھن اور چھری تھی۔ عربوں نے پہلی مرتبہ وہاں سفید روٹیاں دیکھی تھیں۔
حواشی
(١) في [س]: (ممالًا).
(٢) نوع من أنواع الخبز.
(٣) في [س]: (رأيت).
(٤) في [جـ]: (الحوارا).