حدیث نمبر: 38480
٣٨٤٨٠ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي عن عثمان بن يسار عن تميم بن (حَذْلَم) (١) قال: أول (ما) (٢) سلم على أمير بالكوفة بالإمرة، قال: خرج المغيرة بن شعبة من القصر فعرض له رجل من كندة فسلم عليه بالإمرة، فقال: ما هذا؟ ما أنا إلا رجل منهم، فتركت زمانا ثم أقرها بعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت تمیم بن حذلم فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے کوفہ کے امیر کو امارت کا سلام کیا گیا۔ ہوا یوں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ محل سے باہر آئے تو قبیلہ کندہ کے ایک آدمی نے انہیں امار ت کا سلام کیا۔ انہوں نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ میں تو تم ہی میں سے ایک آدمی ہوں۔ پھر اس طرح کا سلام چھوڑ دیا گیا لیکن بعد کے ادوار میں پھر جاری ہوگیا۔

حواشی
(١) في [س]: (خدام)، وفي [هـ]: (خدلم).
(٢) في [جـ]: (من).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38480
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عثمان بن يسار صدوق، أخرجه البخاري في الأدب المفرد (١٠٢٦)، والمزي ١٢/ ١٢٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38480، ترقيم محمد عوامة 36886)