٣٨٤٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو موسى (التميمي) (١) قال: توفيت النَّوارُ امرأة الفرزدق فخرج في جنازتها وجوه أهل البصرة، وخرج فيها الحسن، فقال الحسن للفرزدق: ما أعددت لهذا اليوم يا (أبا) (٢) فراس ⦗١١٨⦘ (قال) (٣): شهادة أن لا إله إلا اللَّه منذ ثمانين سنة، قال: فلما دُفنتْ قام على قبرها فقال: أخاف وراء القبر إن لم (يعافني) (٤) … أشد من القبر التهابا وأضيقا إذا جاءني يوم القيامة قائد … عنيف وسواق يسوق الفرزدقا لقد خاب من أولاد (آدم) (٥) من مشى … إلى النار مغلول القلادة أزرقا [(تم) (٦) كتاب الزهد والحمد للَّه (٧) رب العالمين] (٨)حضرت ابوموسیٰ تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” نوار “ فرزدق کی بیوی کا انتقال ہوگیا تو اس کے جنازہ میں بصرہ کے بہت سے لوگ چلے۔ اور ان میں حسن رحمہ اللہ بھی تھے۔ حسن رحمہ اللہ نے فرزدق سے پوچھا کہ اے ابو فراس تو نے اس دن کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ اسی ” ٨٠“ سال سے اس بات کی گواہی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ جب اس کی بیوی کو قبر میں دفن کردیا گیا تو فرزدق اس کی قبر پر کھڑا ہوگیا اور یہ شعر پڑھے : ١۔ اگر مجھ سے عافیت والا معاملہ نہ ہوا تو قبر کے بعد قبر سے بھی زیادہ آگ اور تنگی سے میں ڈرتا ہوں۔ ٢۔ کہ جب بروز قیامت ایک سخت ہانکنے والا اور ایک قائد فرزدق کو ہانک رہے ہوں گے۔ ٣۔ اولادِ دارم میں سے وہ شخص برباد ہوگیا کہ جس کو اندھا کرکے، طوق پہنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا۔