حدیث نمبر: 38423
٣٨٤٢٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سفيان قال: الزهد في الدنيا قصر الأمل، وليس (بلبس) (١) الصوف.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں زہد امیدوں کو کم کرنے سے ہے تا کہ اون کے کپڑے پہننا۔ اور یہ بات بھی مذکور ہے کہ اوزاعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں زہد تعریف کو چھوڑ دینا ہے فرمایا کرتے تھے کہ تو آخرت کے لیے عمل کر یہ ارادہ نہ کر کہ لوگ تیری اس عمل پر تعریف کریں گے۔ اور زہری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں زہد اس وقت تک ہے کہ جب تک حرام تیرے صبر پر غالب نہ آجائے اور حلال تیرے شکر پر غالب نہ آجائے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (يلبس).