٣٨٣٥٤ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا أبو بكر عن ضمرة أن أبا ريحانة كان مرابطا بالجزيرة في ميافارقين، (فاشترى) (١) (رسنا) (٢) من نبطي من أهلها ⦗٨٣⦘ بأفلس، فلما قفل وكانوا (بالرستن) (٣) (نزل) (٤) عن دابته، وقال لغلامه: هل قضيت النبطي (أفلسه؟) (٥) قال: لا، قال: فاستخرج نفقة من نفقته فدفعها إلى غلامه، وقال (لأصحابه) (٦): أحسنوا (معونته) (٧) على دوابه حتى أبلغ أهلي، قالوا: يا أبا ريحانة وما تريد؟ قال: أريد أن آتي غريمي فأودي عني أمانتي، قال: فانطلق حتى أتى ميافارقين، ثم أتى إلى أهله بعد ما قضى غريمه (٨).حضرت حمزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوریحانہ رحمہ اللہ میافارقین کے جزیرہ میں قیام پذیر تھے۔ انہوں نے وہاں سے ایک نبطی کے گھر والوں سے ایک رسی خریدی۔ پھر جب قافلہ نکل پڑا اور مقام رسین تک لوگ پہنچ گئے تو اپنی سواری سے اترے اور اپنے غلام سے کہا کہ کیا تو نے اس نبطی کو پیسے دے دئیے تھے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ تو انہوں نے اپنے خرچہ میں سے کچھ خرچہ نکال کر باقی کا سامان غلام کو دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرے گھر آنے تک اس سواری اور سامان کا خیال رکھنا۔ انہوں نے پوچھا کہ ابوریحانہ آپ کہاں چل دیے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرا ارادہ ہے میں اپنے قرض خواہ کے پاس جا کر اس کی امانت اس کو واپس کردوں۔ پھر وہ نکل پڑے یہاں تک کہ میافارفقین آئے پھر اپنا قرضہ دے دینے کے بعد اپنے گھر واپس آئے۔