حدیث نمبر: 38353
٣٨٣٥٣ - [حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا أبو بكر عن ضمرة أن أبا ريحانة مر بحمص وأهلها يقتسمونها بينهم، (فسمع (ضوضاء)) (١) (٢) فقال: (ما هذه الضوضاة؟ قال: حمص يقتسمها أهلها بينهم، فقال) (٣): اللهم لا تجعلها عليهم فتنة، فما زال يرددها حتى لم يُدر متى انقطع صوته] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوریحانہ رحمہ اللہ ایک مرتبہ ایک غلہ کے قریب سے گزرے جسے غلے والے آپس میں تقسیم کررہے تھے۔ انہوں نے شور کی آواز سنی تو پوچھا کہ یہ شور کیسا ہے ؟ تو جواب دیا کہ یہ غلہ ہے جس کو غلے والے آپس میں تقسیم کررہے ہیں۔ تو انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس غلہ کو ان کے لیے آزمائش نہ بنا اور اسی کو بار بار کہتے رہے۔ یہاں تک کہ نامعلوم کب ان کی آواز ختم ہوئی۔

حواشی
(١) في [جـ، ع]: (ضوضاة).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) سقط الخبر في: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38353
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أبو بكر هو ابن أبي مريم ضعيف، وأخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٢٤)، والمزي ١٢/ ٥٦٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38353، ترقيم محمد عوامة 36764)