حدیث نمبر: 38289
٣٨٢٨٩ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه بن الربيع بن (خثيم) (١) عن (نسير) (٢) عن (بكر) (٣) بن ماعز قال: جاءت بنت الربيع بن (خثيم) (٤) وعنده أصحاب له فقالت: يا أبتاه أذهب ألعب، قال: لا، فقال له أصحابه: يا (أبا) (٥) يزيد اتركها، ⦗٦٢⦘ قال: لا (يوجد) (٦) في صحيفتي (أني قلت لها: اذهبي) (٧) ألعبي (لكن) (٨) اذهبي، فقولي خيرا، وافعلي خيرا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن ماعز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بنت خثیم کی بیٹی آئی جس وقت ان کے پاس ساتھی بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے پوچھا کہ اے ابا جان ! میں کھیلنے چلی جاؤں تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ ان کے ساتھیوں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابویزید اس کو جانے دیجیے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے صحیفہ میں یہ نہیں دیکھا کہ اس سے کہا گیا ہو کہ جا اور کھیل بلکہ اس میں ہے کہ جا اور اچھی بات کہہ اور اچھا کام کر۔
حواشی
(١) في [أ]: (خيثم).
(٢) في [أ، ع]: (بشر).
(٣) في [أ، س]: (بكير).
(٤) في [أ، س]: (خيثم).
(٥) في [ع]: (با).
(٦) في [ع]: (توجد).
(٧) في [جـ]: تكرر.
(٨) سقط من: [س].