حدیث نمبر: 38222
٣٨٢٢٢ - حدثنا أبو أسامة عن (وهيب) (١) عن موسى بن عقبة قال: (سمعت) (٢) ابن محيريز ونحن معه بالرملة وهو يقول: أدركت الناس (وإذا) (٣) مات منهم الميت من المسلمين قالوا: الحمد للَّه (الذي) (٤) (توفى) (٥) فلانا على الإسلام، ثم انقطع ذلك فليس أحد اليوم يقول ذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ریتلی زمین میں تھے کہ میں نے ابن محریز رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ” میں نے وہ لوگ بھی دیکھے ہیں جب کوئی مسلمان مرتا تو لوگ کہتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کو اسلام پر موت عطا کی۔ پھر یہ زمانہ ختم ہوگیا اور اب کوئی بھی اس طرح نہیں کہتا۔
حواشی
(١) في [جـ]: (وهب).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، ع].
(٣) في [ع]): (فإذا)، وفي [س]: (إذا).
(٤) سقط من: [أ، ب، س].
(٥) في [جـ]: (توفانا).