حدیث نمبر: 38162
٣٨١٦٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مِغوَل عن أبي منصور عن زيد بن وهب قال: خرجت إلى (الجبانة) (١) فجلست فيها إلى جنب الحائط، فجاء رجل إلى قبر فسواه ثم جاء فجلس إلي، فقلت: من هذا؟ (فقال) (٢): أخي، قال: قلت: أخ لك؛ قال: أخ لي في الإسلام رأيته البارحة فيما يرى النائم فقلت: فلان قد ⦗٢٦⦘ عشت، الحمد للَّه رب العالمين، قال: قد قلتها، (قال) (٣): (لأن) (٤) أكون أقدر على أن أقولها، أحب إلي من ملء الأرض وما فيها، ألم تر حين كانوا (يدفنونني) (٥)، فإن فلانا قام فصلى ركعتين؛ لأن أقدر (على) (٦) أن (أصليهما) (٧) أحب إلي من الدنيا وما فيها.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ قبرستان گیا اور ایک دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے ایک قبر کو سیدھا کیا اور پھر میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے ؟ اس نے بتایا کہ یہ میرے بھائی کی قبر ہے۔ میں نے کہا کہ تمہارے بھائی کی ؟ اس نے کہا کہ یہ میرا اسلامی بھائی ہے۔ میں نے اسے رات کو خواب میں دیکھا اور میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں تو زندہ رہے ! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ اس نے کہا کہ تو نے جو جملہ کہا ہے، اگر میں اس کے کہنے پر قادر ہوجاؤں تو یہ کہنے کے لئے ساری زمین بھی صدقہ کرنا پڑے تو صدقہ کردوں۔ کیا تم نے دیکھا کہ جب لوگ مجھے دفن کررہے تھے تو ایک آدمی نے کھڑے ہوکر دو رکعت نماز پڑھی تھی۔ اگر مجھے وہ دو رکعت پڑھنے کی قدرت مل جائے تو وہ مجھے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔

حواشی
(١) في [ع]: (الجنابة).
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (لين).
(٥) في [ب]: (يدفنون)، وفي [أ]: (يدفنوني).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [أ]: (أصليها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38162
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38162، ترقيم محمد عوامة 36573)