٣٨١٥٢ - حدثنا إسحاق بن منصور (قال: حدثنا) (١) عبد السلام عن يزيد بن عبد الرحمن عن المنهال عن خيثمة عن سويد بن غفلة قال: إذا أراد اللَّه أن يُنسى أهل النار جُعل لكل إنسان منهم تابوت من نار على قدره، ثم أقفل عليه بأقفال من نار، فلا يُضرب منه عرقٌ إلا وفيه مسمار (من) (٢) (نار) (٣)، [[ثم جعل ذلك التابوت في تابوت آخر من نار، [ثم أقفل (عليه) (٤) بأقفال من نار] (٥) ثم (يُضرم) (٦) بينهما نار]]، (٧)، فلا يرى أحد منهم أن في النار أحدا غيره، فذلك قوله (تعالى) (٨): ﴿لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ﴾ [الزمر: ١٦]، وذلك قوله تعالى: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الأعراف: ٤١]حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اہل جہنم کو بھلائے جانے کا ارادہ فرمائیں گے ہر ایک کے لئے اس کی جسامت کے بقدر ایک تابوت بنائیں گے پھر اس پر تالا لگا دیا جائے گا۔ اس تابوت میں آگ کے کیل ہوں گے۔ پھر اس تابوت کو آگ کے دوسرے تابوت میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر اس پر آگ کے مزید تالے لگادیئے جائیں گے۔ پھر ان کے درمیان آگ بھڑکا دی جائے گی۔ پھر ہر شخص یہ سمجھے گا کہ آگ میں اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اللہ رب العزت کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے { لَہُمْ مِنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ} اور یہی مطلب ہے اس ارشاد ربانی کا { لَہُمْ مِنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ }۔