٣٨١٥٠ - حدثنا حسين بن علي عن مسعر قال: أعطاني زيد العمي كتابا فيه: أن رجلا أوصى ابنه، (قال) (١): يا بني كن (ممن) (٢) (نأيه (ممن ناى)) (٣) (٤) عنه (تغنيًا) (٥) ونزاهة، و (دنوه) (٦) ممن دنا منه لين ورحمة، ((ليس) (٧) نأيه) (٨) كبرا ولا عظمة، وليس (دنوه) (٩) خدعا ولا خيانة، (١٠) لا يعجل فيما رابه ويعفو عما (تبين) (١١) له، لا يغره ثناء من جهله، ولا ينسى إحصاء ما قد (عمله) (١٢)، إن ذُكر خاف مما يقولون، واستغفر مما لا يعلمون، يقول: ربي أعلم بي من نفسي، وأنا أعلم بنفسي من غيري، (يسأل) (١٣) ليعلم، وينطق ليغنم، ويصمت ليسلم، ويخالط ليفهم، إن كان في الغافلين (كتب) (١٤) من الذاكرين، (وإن كان في الذاكرين) (١٥) لم يكتب من الغافلين، لأنه يذكر إذا غفلوا، ولا ينسى إذا ذكروا.حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ مجھے زید عمی نے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ اے میرے بیٹے ! ایسا شخص بن جا جو لوگوں سے بےنیازی اور پاکدامنی کے لئے دور رہے، نرمی اور رحمت اس کے قریب ہو، اس کا دور ہونا تکبر یا نخوت کی وجہ سے نہ ہو۔ اس کا قریب ہونا دھوکہ دینے یا خیانت کرنے کے لئے نہ ہو۔ شک والا کام کرنے میں جلدی نہ کرے۔ جہاں تک ہوسکے معاف کردے۔ جو اسے نہ جانتا ہو اس کے تعریف کرنے سے دھوکہ میں نہ پڑے اور جو وہ کرچکا ہے اسے نہ بھولے۔ اس کا ذکر کیا جائے تو لوگوں کی باتیں اسے خوف میں مبتلا کردیں اور جو وہ نہیں جانتے اس پر استغفار کرے۔ علم کے حصول کے لئے سوال کرے، فائدہ پہنچانے کے لئے بات کرے، سلامتی کے حصول کے لئے خاموش رہے، بات سمجھنے کے لئے میل جول رکھے، اگر وہ غافلین میں سے ہو تو ذاکرین میں سے شمار کیا جائے اور اگر ذاکرین میں سے ہو تو غافلین میں شمار نہ کیا جائے، اس لئے کہ لوگوں کی غفلت کے وقت ذکر کرتا ہو اور جب لوگ ذکر کریں اس وقت بھی اپنے رب کو نہ بھولے۔ ابن عتیبہ نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ وہ علم کو بردباری کے ساتھ ملائے، فنا ہونے والی چیزوں میں اس کی بےرغبتی ان چیزوں میں رغبت جیسی ہو جو باقی رہنے والی ہیں۔