حدیث نمبر: 38126
٣٨١٢٦ - حدثنا حسين بن علي عن محمد بن سوقة قال: زعموا أن إبراهيم كان يقول: (كنا) (١) إذا حضرنا جنازة، أو سمعنا بميت يعرف ذلك فينا أياما، لأنا قد عرفنا أنه قد نزل به أمر (صيره) (٢) إلى الجنة أو (٣) النار، وأنكم (تحدثون) (٤) (في) (٥) جنائزكم بحديث دنياكم.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی جنازہ میں شریک ہوتے یا کسی کے انتقال کے بارے میں سنتے تو کئی دن تک ہم پر اس کے اثرات رہتے۔ کیونکہ ہم جانتے تھے کہ اب اس پر ایسا معاملہ وقوع پذیر ہوچکا ہے جو اسے جنت یا جہنم میں لے جاسکتا ہے۔ اور تم جنازوں میں دنیا کی باتیں کرتے ہو !

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (سيصره).
(٣) في [جـ، ع]: زيادة (إلى).
(٤) في [هـ]: (تتحدثون).
(٥) في [هـ]: (أفي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38126
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38126، ترقيم محمد عوامة 36538)