حدیث نمبر: 38092
٣٨٠٩٢ - حدثنا علي بن مسهر عن ليث (عن) (١) أبي عبيدة قال: يقول -يعني اللَّه ﵎: ما بال أقوام يتفقهون بغير عبادتي، يلبسون مسوك الضان، وقلوبهم أمرٌّ من الصبر، أبي يغترون أم إياي يخدعون؟ فبي حلفت ⦗٩⦘ (لأتيحنّ) (٢) لهم فتنة في الدنيا تدع الحليم (منهم) (٣) حيرانا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو کیا ہواجومیری عبادت کے بغیر سمجھدار بننا چاہتے ہیں ؟ وہ بھیڑ کی کھال اوڑھتے ہیں لیکن ان کے دل ایلوے (ایک کڑوا پھل) سے زیادہ کڑوے ہیں۔ کیا وہ میری وجہ سے دھوکے میں ہیں یا مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اپنی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میں انہیں دنیا میں ایسے فتنے میں مبتلا کروں گا جو ان میں سے بردبار کو بھی حیران و سرگرداں کردے گا۔

حواشی
(١) في [ب]: (بن).
(٢) في [س]: (لا نحن لهم)، وفي [هـ]: (لأنيخنّ).
(٣) في [أ، ب]: (فيهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38092
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38092، ترقيم محمد عوامة 36504)