حدیث نمبر: 37878
٣٧٨٧٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا هشام عن حفصة (بنت) (١) سيرين قالت: كان مورق يزورنا، فزارنا يوما فسلم، فرددت ﵇، (قالت: ثم ساءلني وساءلته) (٢)، قلت: كيف أهلك؟ (٣) كيف ولدك؟ ⦗٥٢٢⦘ (قال) (٤): إنهم (لمتوافرون) (٥)، قلت: فاحمد ربك، قال: إني واللَّه قد خشيت أن يحبسوني على هلكة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حضرت مورق ہماری ملاقات کو آتے تھے۔ چناچہ وہ ایک دن ہمیں ملنے آئے اور انہوں نے سلام کیا۔ میں نے ان کو سلام کا جواب دیا۔ کہتی ہیں۔ پھر انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور میں نے ان سے کچھ پوچھا۔ میں نے پوچھا۔ آپ کے اہل خانہ کیسے ہیں ؟ اور آپ کے بچے کیسے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا وہ خوب ہیں۔ میں نے کہا۔ پھر تو آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا : خدا کی قسم ! میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے ہلاکت پر محبوس نہ کردیں۔
حواشی
(١) في [جـ]: (ابنة).
(٢) في [جـ]: (قال: ثم سالمني وسالمته)، وفي [هـ]: (قالت: ثم سايلني، وسايلته).
(٣) في [هـ]: زيادة (و).
(٤) في [جـ]: (قلت).
(٥) في [ع]: (متوافرون).