حدیث نمبر: 37777
٣٧٧٧٧ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب قال: كنا عند سعد بن مالك فسكت سكتة فقال: لقد أصبت (بسكتتي) (١) هذه مثل ما سقى النيل والفرات، قال: (قلنا) (٢): وما أصبت؟ قال: سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت سعد بن مالک کے پاس تھے پھر وہ ایک لمحہ خاموش رہے اور پھر کہنے لگے۔ تحقیق میں نے اپنی اس خاموشی میں وہ کچھ پالیا ہے جس کو نیل اور فرات سیراب کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا : آپ کو کیا ملا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ۔

حواشی
(١) في [جـ]: (لسكتتي).
(٢) في [ع]: (قلت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37777
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال علي بن زيد جدعان، أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37777، ترقيم محمد عوامة 36193)